بلوچستان: دو مغویوں کی لاشیں برآمد

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 08:17 GMT 13:17 PST

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے بولان میں مسافر بسوں پر حملے کے اغوا کیے جانے والے دو افراد کی لاشیں جمعہ کی صبح برآمد کر لی گئی ہیں۔

ادھر کوئٹہ کے جنوب مغرب میں آواران کے علاقے سے جمعہ کو چھ افراد کے اغوا کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں تین مقامی دکاندار ہیں۔

بسوں پر حملے کا واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بلوچستان کے درالحکومت کوئٹہ کے جنوب مشرق میں بولان کے علاقے میں پیش آیا تھا۔

نامعلوم مسلح افراد نے لاہور اور صادق آباد جانے والی دو بسوں پر حملہ کیا تھا جس میں کوئٹہ کے ایک مقامی اخبار سے وابستہ صحافی سمیت تین مسافر ہلاک جبکہ کم ازکم تین زخمی ہوگئے تھے۔

حملہ آور ایک بس سے دو مسافروں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ مچھ کی سویلین انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں مغویوں کو لاہور جانے والی بس سے اتارا گیا تھا اور ان کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔

اہلکار نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان دونوں افراد کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں گیتانی پل کے علاقے میں پھینک دی گئیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ جمعہ کی صبح ان لاشوں کی نشاندہی ہوئی اور پھر لیویز فورس کے اہلکاروں نے انہیں مچھ ہسپتال پہنچایا۔

دونوں مغویوں کے قتل کے بعد اس واقعے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔

مقامی پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

درہ بولان ایک اہم اور تاریخی اہمیت کی حامل گزرگاہ ہے اور ان علاقوں میں شامل ہے جو کہ صوبے میں شورش سے متاثرہیں۔ سنہ دو ہزار کے بعد سے اس علاقے میں بسوں اور ٹرینوں پر حملوں کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>