
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے بولان میں مسافر بسوں پر حملے کے اغوا کیے جانے والے دو افراد کی لاشیں جمعہ کی صبح برآمد کر لی گئی ہیں۔
ادھر کوئٹہ کے جنوب مغرب میں آواران کے علاقے سے جمعہ کو چھ افراد کے اغوا کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں تین مقامی دکاندار ہیں۔
بسوں پر حملے کا واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بلوچستان کے درالحکومت کوئٹہ کے جنوب مشرق میں بولان کے علاقے میں پیش آیا تھا۔
نامعلوم مسلح افراد نے لاہور اور صادق آباد جانے والی دو بسوں پر حملہ کیا تھا جس میں کوئٹہ کے ایک مقامی اخبار سے وابستہ صحافی سمیت تین مسافر ہلاک جبکہ کم ازکم تین زخمی ہوگئے تھے۔
حملہ آور ایک بس سے دو مسافروں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ مچھ کی سویلین انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں مغویوں کو لاہور جانے والی بس سے اتارا گیا تھا اور ان کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔
اہلکار نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان دونوں افراد کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں گیتانی پل کے علاقے میں پھینک دی گئیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ جمعہ کی صبح ان لاشوں کی نشاندہی ہوئی اور پھر لیویز فورس کے اہلکاروں نے انہیں مچھ ہسپتال پہنچایا۔
دونوں مغویوں کے قتل کے بعد اس واقعے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔
مقامی پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
درہ بولان ایک اہم اور تاریخی اہمیت کی حامل گزرگاہ ہے اور ان علاقوں میں شامل ہے جو کہ صوبے میں شورش سے متاثرہیں۔ سنہ دو ہزار کے بعد سے اس علاقے میں بسوں اور ٹرینوں پر حملوں کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔






























