مچھ: کوئلے کے آٹھ کان کن اغواء

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے مچھ سے نامعلوم افراد نے جمعرات کی رات کوئلے کے آٹھ کان کنوں کو اغواء کر لیا۔

جمعرات کی رات گئے کوئٹہ سے ساٹھ کلو میٹر دور مچھ کے قریب نامعلوم افراد پیر اسماعیل کے مقام سے آٹھ کان کنوں کواغواء کر کے پہاڑوں پر لے گئے۔

مقامی لیویز کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ایک ہوٹل پر بیھٹے ہوئے آٹھ کان کنوں کو اسلحے کے زور پر اغواء کر لیا۔

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب جمعرات کو بلوچ لیبریش آرمی کے اہلکاروں نے کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں کوئلے کے سات کان کنوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعہ پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہد ری نےاز خود نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت سے دو دن میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

چیف جسٹس ان دنوں کوئٹہ میں ہیں جہاں وہ بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جعمرات ہی کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً سات کلو میٹر دور ڈیگاری کے مقام سے سات افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

یہ لاشیں ڈیگاری کے علاقے سے جمعرات کی صبح لیویز کے اہلکاروں کو ملیں۔

ہلاک ہونے والے کان کن سات جولائی کو مارواڑ نامی علاقے سے اِغواء ہوئے تھے۔ اِن کا تعلق سوات سے بتایا گیا تھا۔

اس سے پہلے کان کنوں کی ایک بڑی تعداد نے ڈیگاری میں ہلاک ہونے والے سات افراد کی لاشیں بلوچستان ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

کان کنوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے گا۔