
ہزارہ برادری پر بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف متعدد بار احتجاج کیا جا چکا ہے
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہزارہ برادری کے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی پولیس افسر شیر احمد کے حوالے سے بتایا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد کی سبزی کی دو دکانوں پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا۔
کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ فرقہ وارانہ تشدد میں ہلا ک اور زخمی ہوئے ہیں جن میں سے سے زیادہ تر کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔
کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سنہ دو ہزار کے بعد بڑی تعداد میں لوگ فرقہ وارانہ تشدد میں ہلا ک اور زخمی ہوئے ہیں جن میں سے سے زیادہ تر کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔
بلوچستان کی قوم پرست جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے رواں ماہ جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق اب تک قبیلے کے سات سو سے زائد افراد فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔
ان حملوں کی وجہ سے نہ صرف ہزارہ برادری کی جانب سے کئی بار احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں جبکہ حقوق انسانی کی تنظیمیں ان حملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔
بلوچستان کی حکومت نے ستمبر میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ رواں سال اب تک ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک سو پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔






























