
بلوچستان میں 2002 کے بعد بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار کی شام ٹارگٹ کلنگ کے ایک اور واقعہ میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ۔
پولیس کے مطابق جیولری کی ایک دکان کے مالک ، ان کا بیٹا اور بھائی دکان بند کر کے ایک سوزوکی وین میں گھر جا رہے تھے کہ شہر کی انتہائی مصروف ترین شاہراہ عبدالستار روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی۔
جس کے نتیجے میں تینوں افراد اور وہاں سے گزرنے والے رکشے کا ایک ڈرائیور شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کردیا گیا جن میں سے دکان کا مالک زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگئے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے جو حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ رکشہ ڈرائیور کے علاوہ ہلاک اور زخمی ہونے والے دوسرے افراد کا تعلق شیعہ مکتبہ فکر سے ہے ۔
یہ واقعہ کو ئٹہ کے سٹی پولیس اسٹیشن کی حدود میں ہوا۔ تھانے کے تفتیش سے متعلق عملے کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں تفتیش شروع کر دی گئی لیکن بظاہر یہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے ایک پستول بھی قبضے میں لیا تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ پستول حملہ آوروں کا ہے یا کسی اورکا ۔اس کے علاوہ موقع سے9 ایم ایم اور میگاروف کی گولیوں کے خول بھی ملے ہیں۔
بلوچستان میں 2002 کے بعد بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس کازیادہ تر نشانہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد بنے جن کا تعلق شیعہ مکتبہ فکر سے ہے۔
ہزارہ قبیلے کی جانب سے ستمبر 2012 میں سپریم کورٹ میں ایک فہرست پیش کی گئی جس کے مطابق فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور بم دھماکوں میں قبیلے کے 7 سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان واقعات کے باعث ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔
2009 کے بعد کوئٹہ میں سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کی ٹارگٹ کلنگ کا بھی سلسلہ شروع ہوا اور اب تک پولیس کے مطابق 20 سے زائد علماء اور طلباء ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کا نشانہ بنے ہیں۔
یہ واقعہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے کوئٹہ میں بلوچستان کی صورتحال سے متعلق کیس کی سماعت کے تین روز بعد پیش آیا ۔ سپریم کورٹ نے ان واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
کوئٹہ میں سماعت کے بعد 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے ایک عبوری حکم بھی جاری کیا جس میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ بلوچستان کی حکومت لوگوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کر نے میں ناکام ہوگئی ہے اس لیے وفاقی حکومت لوگوں کی جان و مال کی تحفظ کے لیے اقدامات کرے






























