کوئٹہ فائرنگ، پولیس اہلکار سمیت چھ ہلاک

ایس ایس پی محمد انور نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے اس حملے میں ملزمان نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنایا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایس ایس پی محمد انور نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے اس حملے میں ملزمان نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنایا۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں ایک پولیس اہلکار سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔

خیال رہے کہ آج اتوار کو فائرنگ کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب وزیراعظم گیلانی بلوچستان میں امن و امان بہتر کرنے کے لیے دو روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق اتوار کے روز کوئٹہ کے سرکی روڈ پر کیپری سنیما کے قریب موٹرسائیکل سواروں نے ویلڈنگ کی ایک دوکان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں میں چار کا تعلق ہزارہ قبیلے اور شیعہ مسلک سے تھا جبکہ ایک سنی تاجک ہے۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی گشت پر موجود پولیس کی گاڑی وہاں پہنچ گئی اور انہوں نے حملہ آوروں پر فائرنگ شروع کردی۔ جس کے جواب میں مسلح افراد نے بھی پولیس گاڑی پر فائرنگ کی اور نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔

ہلاک و زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ضروری کارروائی کرنے کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی ہیں۔

زخمی پولیس اہلکار کے مطابق پولیس کی فائرنگ سے دو حملہ آور بھی زخمی ہوئے جنہیں ان کے ساتھی ایک رکشہ میں ڈال کر لیے گئے جس پر پولیس نے شہر کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے اور تمام ہسپتال میں زخمیوں کی تلاش جاری ہے۔

لیکن رات گئے تک نہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی اورنہ کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

علاقہ ایس ایس پی محمد انور نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے اس حملے میں ملزمان نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنایا۔

وزیراعظم گیلانی کی کوئٹہ آمد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب وزیراعظم سید یوسف رضاء گیلانی بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دو روز ہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔

وزیراعظم کوئٹہ میں امن وامان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے اور لاپتہ افراد کومنظرعام پر لانے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات روکنے کے لیے تجاویز پر غور کریں گے۔ وزیراعظم کی کوئٹہ آمد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم سید یوسف رضاء گیلانی وزیراعظم نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں احساس محرومی دور کرنے کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

گورنرہاوس آمد کے فورا بعد پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر میرصادق عمرانی کی قیاد ت میں پارٹی کارکنوں نے ایک وفد کی صورت میں وزیراعظم سے ملاقات کی۔

اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کو منظرعام پرلانے، ٹارگٹ کلنگ،اغواء برائےتاوان کے علاوہ دیگرمسائل پرتبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم نےوفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بے روزگاری اوراحساس محرومی دورکرنے کا خاتمہ کرنے کے لیے مختلف وفاقی اداروں میں ڈھائی ہزار جبکہ لیویز میں تین ہزار نوجوانوں کو روزگار دیاجائےگا۔ اس کے علاوہ پندرہ ہزار نوجوانو ں کے لیے مختلف وفاقی اور صوبائی محکموں میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائینگے۔

بلوچستان کی ترقی کا ذکرکرتے ہوئے سیدیوسف رضاء گیلانی نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن یااین ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو تین گنازیادہ فنڈز دیے گئے ہیں۔ جبکہ سوئی گیس کی راہلٹی کو دس ارب سے بڑھاکربارہ ارب کردیاگیا۔ اس کے علاوہ صوبے کے مختلف علاقوں میں دوسو پچاس ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بعد میں وزیراعظم سے بلوچستان بار کونسل کے صدرمنیرپانیزئی کی قیادت میں وکلاء کے ایک وفد نے بھی ملاقات کی۔

وزیراعظم پیر کے روز کمانڈ اینڈسٹاف کالج میں سالانہ تقریبات میں شرکت کرنے کے علاوہ فوجی آفیسران سےخطاب کریں گے۔ جس کے لیے چیف آف ارمی سٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی بھی کوئٹہ پہنچ گئے۔