آئی ایس آئی کے اعلیٰ افسر گھر سے اغواء

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 18:54 GMT 23:54 PST

چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق کیانی بھی آئی ایس آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں

نامعلوم افراد نے جمعرات کی صبح پاکستان کے حساس ادارے آئی ایس آئی کے ایک اعلیٰ افسر برگیڈیئر طاہر مسعود کو ان کے گھر سے اغوا کر لیا ہے۔ اغوا کاروں نے مزاحمت کرنے پر برگیڈیئر طاہر مسعود کے ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق اغوا کاروں نے آئی ایس آئی کے اعلی عہدیدار کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد میں ان کے گھر سے اغوا کیا ہے۔

قومی سلامتی سے متعلق ایک سینئر فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس امر میں شک کی بہت کم گنجائش ہے کہ بریگیڈیئر طاہر مسعود کے اغوا میں شدت پسند ملوث ہیں۔

سینئر فوجی افسر کے مطابق بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر مسعود ایک سال قبل پاکستان کی بری فوج سے تو ریٹائر ہوگئے تھے لیکن آئی ایس آئی نے ان کی خدمات کنٹریکٹ پر حاصل کر رکھی تھیں۔

بریگیڈیئر طاہر آئی ایس آئی سے پہلے پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے ملٹری انٹیلی جنس میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

شدت پسند اس سے پہلے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پر کئی حملے کر کے اس کے کئی افسر اور اہلکار قتل اور اغوا کر چکے ہیں لیکن بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر مسعود شدت پسندوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے آئی ایس آئی کے اعلیٰ ترین اہلکار ہیں۔

وہ فوج میں اپنے کیریئر میں فوجی صدر دفاتر جی ایچ کیو میں بھی بعض بہت حساس عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔

ریٹائرمنٹ سے دو سال قبل وہ آئی ایس آئی میں تعیناتی کے دوران وہ کسی فیلڈ ڈیوٹی پر تو نہیں گئے لیکن بتایا جاتا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے بارے میں تفتیشی اور تحقیقی کام سے منسلک تھے۔

ان کے تجربے اور اعلیٰ خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں گزشتہ برس فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی آئی ایس آئی میں کام جاری رکھنے کا موقع دیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>