
سکیورٹی افواج نے مغویوں کی بازیابی کے لیے کارووائیاں شروع کر دی ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کے حکام کا کہنا ہے کہ طالبان شدت پسندوں نے نیم فوجی دستوں کی دو چوکیوں پر حملہ کر کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور کم از کم بائیس سکیورٹی اہلکاروں کو اغوا کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق بھاری خودکار اسلحے اور راکٹ پروپیلڈ گرینیڈوں (آر پی جی) سے لیس شدت پسندوں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پشاور کے جنوب میں جانی خوڑ اور حسن خیل میں لیویز کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق حسن خیل میں شدت پسندوں کے حملے میں دو اہلکار مارے گئے اور ایک زخمی ہوگیا جبکہ درجنوں اہلکار تاحال لاپتا ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حملوں کے بعد دونوں چوکیوں کو نذرِ آتش بھی کر دیا گیا۔
فاٹا سیکرٹیریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں بائیس اہلکاروں کی گمشدگی کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایک مقامی عہدے دار نوید اکبر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’گولیوں کا تبادلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس کے دوران انھوں (طالبان) نے دو فوجیوں کو ہلاک، ایک کو زخمی اور بائیس کو اغوا کر لیا۔‘
"گولیوں کا تبادلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس کے دوران انھوں (طالبان) نے دو فوجیوں کو ہلاک، ایک کو زخمی اور 22 کو اغوا کر لیا۔"
مقامی عہدے دار نوید اکبر
انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے کچھ سڑکیں بلاک کر دی ہیں اور مغوی سپاہیوں کی بازیابی کے لیے آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم اس ضمن میں ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے تئیس افراد کو یرغمال بنانے کا اعتراف کیا ہے۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی چوکیوں پر ایک سو کے لگ بھگ اہل کار تعینات تھے۔
یہ رواں مہینے میں پشاور اور اس کے گرد و نواح میں ہونے والا تیسرا بڑا حملہ ہے۔
دو ہفتے قبل پشاور کے ہوائی اڈے پر ایک خودکش حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ گذشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کی حکمراں جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی سینیئر رہنما بشیر بلور کو ایک خودکش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس حملے میں سات دیگر افراد بھی مارے گئے تھے۔






























