
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سنیچر کی رات باچہ خان ہوائی اڈے پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد اتوار کی صبح سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں مزید پانچ دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس کارروائی میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں، زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
سنیچر کی رات ہونے والے حملے میں حکام کے مطابق پانچ حملہ آور اور چار عام شہریوں سمیت نو افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہو گئے تھے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے مطابق ایک دہشت گرد کو زندہ گرفتار کیا گیا ہے۔
پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سنیچر کی رات کو ہوائی اڈے پر حملے کے بعد کارروائی میں پانچ شدت پسند مارے گئے جبکہ اتوار کی صبح پولیس سمیت سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں مزید پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔
پشاور پولیس کے ایس پی آپریشنز عمران شاہد نے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اتوار کی صبح پشاور ہوائی اڈے کے قریب پاؤکہ گاؤں میں دو مختلف مقامات پر چھپے ہوئے شدت پسندوں کے خلاف پولیس نے بھرپور آپریشن کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران فائرنگ سے تینوں شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایس پی آپریشنز نے مزید بتایا کہ’ ہلاک ہونے والے تمام حملہ آور ازبک تھے اور ان سب کی پشت پر خاص قسم کے ’ٹیٹو‘ یعنی نشانات بنے ہوئے تھے جن میں انسانی کھوپڑی اور کچھ اور نشانات نمایاں تھے جو کہ ان کی پوری کمر پر بنے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے ٹیٹوز عام طور پر غیر ملکی یعنی روسی علاقوں کے افراد اپنے جسم پر کندہ کراتے ہیں۔‘

حملہ آور ہوائی اڈے کی دیوار دھماکے سے توڑ کر اندر داخل ہوئے۔
پولیس کے مطابق دوسرے واقعے میں ایک زیر تعمیر مکان میں چھپے ہوئے دو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔
پولیس کے مطابق شدت پسندوں نے خود کش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹس پہنی ہوئی تھیں اور جب ان کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا تو حملہ آوروں نے زخمی ہونے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’رات کے حملے کے تسلسل میں شہر کے بعض علاقوں میں کارروائیاں ہو رہی ہیں۔
میاں افتخار حسین نے مزید بتایا کہ ’پشاور کا باچہ خان ہوائی اڈہ کھول دیا گیا ہے اور ایک جہاز جو رات کے واقعے کی وجہ سے پھنس گیا تھا اب تک روانہ ہو چکا ہو گا۔‘
کالعدم تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے نامعلوم مقام سے سنیچر کی رات کو فون کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تین شدت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ اتوار کو انہوں نے بتایا کہ حکومتی دعویٰ غلط ہے کہ حملہ آور ازبک یا غیر ملکی تھے بلکہ سب حملہ آور پاکستانی تھے۔
طالبان کے ترجمان کے مطابق پانچ پانچ جنگجوؤں پر مشتمل دو گروپس نے ہوائی اڈے پر دو جانب سے حملہ کیا اور ان کا ہدف پاکستان فضائیہ کے ہیلی کاپٹر اور طیارے تھے۔

پشاور شہر میں سکیورٹی اس وقت ہائی الرٹ ہے جس میں فوج بھی پولیس کی معاونت کر رہی ہے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق ہوائی اڈے پر زمینی حملہ کرنے والے پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
ترجمان کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ائرپورٹ کی دیوار سے ٹکرائی جس کی وجہ سے عام شہری زخمی ہوئے۔
پشاور میں ہمارے نمائندے کے مطابق ہوائی اڈے پر راکٹ اور زمینی حملے ابدرہ کے علاقے کی طرف سے کیے گئے تھے۔
سنیئیر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے اس حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ یہ باچہ خان ہوائی اڈہ سیویلین اور فوج کا مشترکہ ہوائی اڈہ ہے تو خدشہ ہے کہ آئندہ بھی شدت پسندوں کا ہدف رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس لیے بھی اس ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا کہ یہ اور بعض دوسرے ہوائی اڈے شدت پسندوں کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہ کہا کہ پولیس اور فوجی تنصیبات ماضی میں بھی شدت پسندوں کا حدف رہے ہیں۔
اس سے پہلے پشاور کے سپرٹنڈنٹ پولیس خالد ہمدانی نے ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین راکٹ ہوائی اڈے کی حدود میں آ کر گرے تھے جس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکوں سے ہوائی اڈے کی دیوار منہدم ہو گئی تھی۔
حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر حفاظتی انتظامات سخت کیے گئے تھے جس کی وجہ سے حملہ آور ہوائی اڈے کے اندر داخل ہونے میں ناکام رہے تھے۔

ایک گھر جس کی چھت راکٹ گرنے سے تباہ ہو گئی تھی۔
ان کے مطابق کچھ راکٹ شہری علاقوں میں بھی گرے جن کی وجہ سے جانی نقصان ہوا۔
دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس سے آس پاس کے کئی مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔
اس حملے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی اور کچھ وقت کے لیے ہوائی اڈے پر آنے والی پروازوں کو روک دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشنز میں استعمال ہونے والے گن شپ ہیلی کاپٹر پشاور کے اسی ہوائی اڈے ہی سے پرواز کرتے ہیں۔
اسی سال اگست میں کامرہ کے فوجی بیس پر بھی مسلح حملہ کیا گیا تھا جس میں نو عسکریت پسند مارے گئے تھے۔






























