
ذرائع کے مطابق خفیہ اداروں نے پہلے ہی ایک حفاظتی الرٹ جاری کر رکھا تھا جس میں چودہ اگست اور عید کے موقع پر سکیورٹی فورسز کے دفاتر کو نشانہ بنانے کے امکان کا ذکر تھا
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع شہر کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کے اڈے پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً دو بجے دہشتگردوں نے حملہ کیا اور حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران نو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ایک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پاکستانی فضائیہ کے ترجمان کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے تقریباً چار گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی کے بعد جمعرات کی صبح صورتحال پر قابو پا لیا ہے اور فائرنگ کا سلسلہ بھی تھم گیا ہے۔ اس وقت علاقے میں مزید ممکنہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے اور اسلام آباد پشاور موٹر وے کو اٹک کے مقام پر بند کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کی لاشوں سے خود کش جیکٹیں ملی ہیں اور حملہ آوروں کے پاس ’راکٹ پروپلڈ گرنیڈ‘ (آر پی جی) اور خودکار ہتھیار بھی موجود تھے۔
ترجمان کے مطابق جوابی کارروائی میں فضائیہ کے دو اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں اس حملے کی جوابی کارروائی کی سربراہی کرنے والے آفیسر، ایئر کموڈور محمد اعظم بھی شامل ہیں جن کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔
کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے کامرہ آئربیس پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
تحریک کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ اس حملے میں نو خودکش حملہ آواروں نے حصہ لیا اور تمام مارے گئے۔ انہوں نے اس واقعہ میں ایک درجن کے قریب سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر کی دوری پر واقع کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کا منہاس ایئر بیس اور ایروناٹیکل کمپلیکس موجود ہے۔
عسکری ذرائع نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد گیارہ سے پندرہ کے درمیان تھی۔ ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے پاکستانی فضائیہ کی وردیاں پہنی ہوئی تھیں اور یہ حملہ دو ہزار نو میں جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کی طرز پر کیا گیا۔
پاکستانی فضائیہ کے ترجمان گروپ کیپٹن طارق محمود نے نامہ نگار ظہیر الدین بابر کو بتایا کہ دہشتگردوں کے گروہ نے پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی رات دو بج کر دس منٹ پر فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
فضائیہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے منہاس ائیر بیس کے جس حصے پر حملہ کیا تھا انہیں وہیں گھیر لیا گیا اور اس کارروائی میں فضائیہ کے کمانڈوز نے بھی حصہ لیا۔
نامہ نگار ذوالفقار علی نے پاکستانی فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بتایا کہ حملہ آوروں نے ایئر بیس کے ہینگر (طیاروں کے کھٹرے کرنے کی جگہ) میں گھسنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز کی فوری جوابی کارروائی، انہیں ہینگر تک پہنچے سے روکنے میں کامیاب رہی۔ ایئر بیس کی بیرونی دیوار کے باہر سے بھی دستی بموں کی مدد سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک جہاز کو نقصان بھی پہنچا۔
اطلاعات کے مطابق جس جہاز کو نقصان پہنچا وہ ایک ساب - 2000 طیارہ تھا جو کہ نگرانی اور معلومات اکھٹے کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چند ذرائع کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے جس سمت سے کارروائی کی، اس کے پیشِ نظر اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ حملہ آوروں کو پہلے سے یہ معلومات حاصل تھیں کہ یہ حساس طیارے اڈے میں کس مقام پر موجود ہیں تاہم اس معاملے کی تحقیقات آپریشن مکمل کرنے کے بعد کی جائیں گی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور اس واقعے کے بعد ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کے اڈے پر ماضی میں بھی حملے کی کوشش ہو چکی ہے۔ اکتوبر دو ہزار نو میں ایک خودکش حملہ آور نے اسی اڈے کے باہر واقع حفاظتی چوکی پر دھماکہ کر کے چھ شہریوں اور پاکستانی فضائیہ کے دو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔
خیال رہے کہ یہ پاکستان میں کسی فوجی اڈے پر دہشتگردوں کے حملے کا پہلا واقعہ نہیں۔ مئی دو ہزار گیارہ میں شدت پسندوں نے کراچی میں واقع بحریہ کے مہران بیس پر حملہ کیا تھا اور سترہ گھنٹے کی کارروائی میں دس اہلکار اور حملہ کرنے والے دہشتگردوں میں سے تین ہلاک ہوئے تھے۔
اس سے قبل سنہ دو ہزار نو میں راولپنڈی میں پاکستانی بری فوج کا صدر دفتر بھی دہشتگردوں کا نشانہ بنا تھا اور بائیس گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی میں بائیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔






























