بحریہ حملہ کیس: ’چاروں غیر ملکی تھے‘

پاکستان کے شہر کراچی میں بحریہ کے بیس پر ہونے والے حملے میں ڈی این اے ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ چاروں حملہ آور غیر ملکی تھے۔
مہران بیس پر شدت پسندوں نے بائیس مئی کی شب کارروائی کی تھی۔
اس کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسر ایس ایس پی انویسٹیگیشن نیاز کھوسہ نے کہا کہ مارے جانے والے چاروں حملہ آوروں کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹس موصول ہوگئی ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ چاروں افراد پاکستانی شہری نہیں تھے۔
نیاز کھوسہ نے بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی کو بتایا کہ انہوں نے حملہ آوروں کے ڈین این اے کے نمونے اسلام آباد میں خان ریسرچ لیبارٹری کو معائنے کے لیے بھجوائے تھے جس سے معلوم ہوا کہ یہ چاروں ایک دوسرے کے بہت قریبی رشتے دار تھے۔
انہوں نے کہا کہ عین ممکن ہے کہ یہ چاروں بھائی ہوں یا پھر فرسٹ کزن۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں حملہ آوروں کا نسلی پروفائل یوریشین لکھا ہوا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ افراد غیر ملکی تھے۔
ان کے بقول نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے ریکارڈ میں پہلے ہی ان افراد کی کوئی تفصیل نہیں ملی تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ڈی این اے ٹیسٹ دو اقسام کے ہوتے ہیں ایک نسلی پروفائل معلوم کرنے کے لیے اور دوسرا کسی شخص سے رشتہ معلوم کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کا کوئی رشتہ دار سامنے نہیں آیا تھا اسی لیے ان کے ڈی این اے کے نمونے نسلی پروفائل معلوم کرنے کے لیے بھجوائے گئے تھے۔
اس سے پہلے بھی اکتیس مئی کو پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی دفاع سے متعلق قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستانی بحریہ کے چند سینئر افسران نے اشارہ دیا تھا کہ کراچی میں واقع مہران بیس پر حملہ کرنے والے جو چار شدت پسند ہلاک ہوئے تھے ان میں غیر ملکی بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تاہم اس وقت بحریہ کے افسران نے اس بارے میں زیادہ معلومات یہ کہہ کر فراہم نہیں کیں تھیں کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں۔
بحریہ کے حکام کے مطابق بائیس اور تئیس مئی کی درمیانی شب مہران بیس پر حملے کے وقت وہاں پچاس کے قریب طیارے اور ہیلی کاپٹرز موجود تھے، لیکن شدت پسندوں نے پاکستان بحریہ کے انتہائی اہمیت کے حامل دو طیاروں پی تھری سی اورین کو ہی ہدف بنایا تھا۔







