آخری وقت اشاعت:  پير 23 مئ 2011 ,‭ 11:35 GMT 16:35 PST

کراچی: نیول بیس پر آپریشن مکمل، دس اہلکاروں سمیت تیرہ ہلاک

پاکستانی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں پاکستان بحریہ کے بیس پی این ایس مہران پر جاری آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور اس دوران دس اہلکار اور حملہ کرنے والے دہشتگردوں میں سے تین ہلاک ہوگئے ہیں۔

نیول بیس پر آپریشن’مکمل‘

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والوں میں تین نیول کمانڈوز، یاسر نامی ایک نیوی لیفٹینٹ، دو رینجرز، آگ بجھانے کے عملے کے تین ارکان اور ایک ملاح شامل ہیں۔

کراچی میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بتایا کہ جس وقت حملہ ہوا اس وقت اڈے پر سترہ غیر ملکی موجود تھے جن میں سے گیارہ چینی اور چھ امریکی تھے۔ان کا کہنا تھا کہ حملے کے فوراً بعد ان افراد کو جائے وقوعہ سے بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

کلِک پی این ایس مہران کا محلِ وقوع

ان کا کہنا تھا کہ حملہ کرنے والے دہشتگردوں کی تعداد چار سے چھ تھی جو حفاظتی باڑ کاٹ کر سیڑھیوں کی مدد سے فوجی اڈے میں داخل ہوئے اور آتے ہی رن وے پر کھڑے جہازوں کو نشانہ بنایا جس سے دو جہاز تباہ ہوگئے۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں سے دو گولیوں کا نشانہ بنے جبکہ ایک نے خود کو سٹرانگ روم میں دھماکے سے اڑا لیا اور چوتھے کے بارے میں بھی خیال ہے کہ اس کی لاش سٹرانگ روم کے ملبے تلے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیال ہے کہ دو حملہ آور کارروائی کے دوران فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کروائی جائیں گی۔

ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے بحریہ کے بیس پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کے نمائندے دلاور خان وزیر کو فون کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا انتقام ہے۔

جدید اسلحہ سے لیس ایک درجن کے قریب دہشتگردوں نے اتوار کی رات تقریباً ساڑھے دس بجے بحریہ کے بیس پی این ایس مہران پر حملہ کیا تھا۔ شدت پسندوں کے حملے میں جیٹ فیول کے ٹینکرز میں بھی آگ لگ گئی اور اس سے کئی دھماکے ہوئے جن کی شدت دور دور تک محسوس کی گئی۔

حملے کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔ اس دوران ساری رات دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی جاتی رہیں اور پاکستان بحریہ کے ہیلی کاپٹر بھی فضا میں پرواز کرتے رہے۔

کراچی میں پاکستان بحریہ کے بیس پر شدت پسندوں کا حملہ 2009 میں راولپنڈی میں پاکستان فوج کے ہیڈکواٹر پر ہونے والے حملے کے بعد کسی فوجی مرکز پر پہلا حملہ ہے۔ راولپنڈی جی ایچ کیو پر حملہ بائیس گھنٹے تک جاری رہا تھا جس میں بائیس لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

عمریں سترہ سے اٹھارہ سال

پی این ایس مہران میں فورسز سے مقابلے میں ہلاک ہونے والے تینوں حملہ آورں کی لاشیں سول ہسپتال پہنچائی گئی ہیں۔

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر مبارک نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں کی عمریں سترہ سے اٹھارہ سال ہوں گی۔ ان میں سے دو کی لاشیں سالم اور ایک کی ٹکڑوں میں لائی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آوروں میں سے ایک کو سینے میں گولیاں لگی ہوئی ہیں جبکہ ایک کو گولیوں کے ساتھ بم کے چھرے لگے ہوئے ہیں جو امکان یہ ہی کہ خودکش جیکٹ پھٹنے سے لگے ہیں۔

ڈاکٹر مبارک کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک ناقابل شناخت ہے، جبکہ ایک افغانی اور ایک کراچی کا ہی نوجوان نظر آتا ہے، جن کے چہروں پر ہلکی داڑھی اور مونچھیں ہیں۔

بحریہ پر حملہ: تصاویر

  • اتوار کی رات کو کراچی میں پاکستان بحریہ کے بیس پی این ایس مہران پر ایک درجن سے زیادہ شدت پسندوں نےحملہ کیا ہے۔
  • نیوی اہلکاروں کے مطابق حملہ آوروں نے میری ٹائم نگرانی کرنے والے دو طیاروں پی تھری اورین کو نقصان پہنچایا ہے۔
  • کراچی میں پاکستان بحریہ کے بیس پی این ایس مہران پر شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان مقابلہ جاری ہے اور اب تک اس کارروائی میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے ہیں۔
  • بارہ گھنٹےگزر جانے کے بعد اب بھی وہاں سے سے خود کار اسلحے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں مسلسل آ رہی ہیں۔
  • شدت پسندوں کی جانب سے ایک عمارت پر قبضہ کیے جانے کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
  • وزیرِ داخلہ اور عسکری ذرائع نے جہاں ایک عمارت پر شدت پسندوں کے قبضے کی تصدیق کی ہے وہیں بحریہ کے حکام اس سے انکار کر رہے ہیں۔
  • جدید اسلحہ سے لیس حملہ آوروں نے رات تقریباً ساڑھے دس بجے بحریہ کے بیس پی این ایس مہران پر تین اطرف سے حملہ کیا تھا۔
  • حملہ آوروں نے ہینگرز میں کھڑے طیاروں پر آر پی جی سے گرینیڈ داغے جس سےسمندری نگرانی کے کام آنے والا ایک پی تھری اورین طیارہ مکمل تباہ ہو گیا جبکہ دوسرے طیارے کو بھی نقصان پہنچا۔
  • شدت پسندوں کے حملے میں جیٹ فیول کے ٹینکروں میں آگ گئی اور اس سے کئی دھماکے ہوئے جن کی شدت دور دور تک محسوس کی گئی۔
  • سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا اور ساری رات دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی جاتی رہی ہیں اور پاکستان بحریہ کے ہیلی کاپٹر بھی فضا میں پرواز کرتے نظر آ رہے ہیں۔
  • پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن اب بھی جاری ہے اور تازہ کمک بھی پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق اب تک کی کارروائی میں بحریہ کے پانچ اور رینجرز کا ایک اہلکار ہلاک ہوا ہے۔
  • ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران چودہ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل عسکری ذرائع نے بی بی سی کے شعیب حسن کو بتایا تھا کہ اب تک آپریشن میں گیارہ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں
  • وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے رات گئے کراچی ائرپورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند تین طرف سے بیس میں داخل ہوئے تھے اور اب انہوں نے ایک عمارت پر قبضہ کر رکھا ہے۔ سکیورٹی فورسز ان کو ہلاک یا گرفتار کرنے کے لیے آپریشن کر رہی ہیں۔
  • نیوی کے ترجمان کموڈور عرفان الحق کے مطابق اثاثے بچانے کے لیے احتیاط سے آپریشن کیا جا رہا ہے۔ نیوی کے ترجمان نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ شدت پسندوں کے حملے میں کوئی غیر ملکی ہلاک یا یرغمال بنایا گیا ہے۔
  • ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے بحریہ کے بیس پر حملے کی ذمہ قبول کر لی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کے نمائندے دلاور خان وزیر کو فون کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا انتقام ہے۔

بیس پر حملہ کب اور کیسے

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی فوجی آپریشن میں ہلاکت اور القاعدہ و تحریک طالبان کی جانب سے بدلے کے اعلانات کے بعد یہ خدشہ تو پہلے سے محسوس کیا جا رہا تھا کہ کراچی تخریب کاروں کے نشانے پر ضرور آئے گا مگر اس کے لیے اتوار کے دن اور رات کے وقت کا انتخاب کراچی میں پہلے ہونے والے واقعات سے مختلف تھا۔

اس سے قبل کراچی میں دہشت گردی کے اکثر واقعات اور دھماکے صبح یا دوپہر کے وقت رونما ہوتے رہے ہیں۔

اتوار کی رات کو تقریباً گیارہ بجے کے قریب دھماکوں کے بعد شاہراہ فیصل پر سفر کرتے ہوئے دھویں کے سیاہ بادل دور سے ہی نظر آرہے تھے قریب پہنچ کر آگ کے شعلے بھی دکھائی دیئے مگر یہ سب کچھ ایک چار دیواری کے اندر ہو رہا تھا جہاں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔

پاکستان کے فوجی ایریا ویسے ہی علاقہ ممنوعہ ہیں جہاں فوٹو گرافی اور ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایسے واقعات کے بعد قوانین اور اس کا نفاذ کرنے والے دونوں ہی سخت ہوجاتے ہیں۔

شہری حکومت کی جانب سے نصب کلوز سرکٹ کیمروں میں تین جگہوں سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ جس کے بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور فلاحی اداروں کی ایمبولینسوں کی ایک بڑی تعداد جائے وقوع پر پہنچ گئی مگر انہیں بھی اندر جانے کی اجازت نہیں مل سکی۔

اس عرصے میں کئی پولیس افسر اور تفتیتشی ادارے پہنچ گئے مگر فورسز نے یہ کارروائی خود کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں چند پولیس افسروں کو مرکزی گیٹ سے داخلے کی اجازت مل گئی اور کچھ واپس چلے گئے۔

ائر پورٹ سے شہر کی جانب آتے ہوئے پی ایف میوزیم سے لیکر کارساز تک ایمبولینس کی ایک بڑی قطار لگی ہوئی تھی جن کے سائرن اور سرخ بتیاں ماحول کو اور بھی پراسرار بنا رہی تھیں۔ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ریلوے سٹیشن کے قلی کی طرح اپنی خدمت کی پیشکش کر رہی ہیں مگر کوئی ان کی نہیں سن رہا تھا ۔

ٹی وی چینلز کی ڈی ایس این جیز بھی تیزی کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچیں۔ عملے نے کمال پھرتی سے تاریں لگا کر کیمرے سیٹ کیے۔ کچھ نے گاڑیوں کے چھت پر کیمرہ لگا کر چار دیواری کے اندر جھانکنے کی کوشش کی مگر تاریکی میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی تاہم فضا میں اٹھتا ہوا دھواں اور بھڑکتے ہوئے شعلے ضرور کیمرے کی آنکھ نے کیچ کرلیے۔

رپورٹرز موبائل ٹیلیفون پر اپنے دفاتر کو ہر فائر اور دھماکے کی ہر آواز پر اپ ڈیٹ کرتے رہے۔ کبھی کبھار فائرنگ کی آواز قریب سے سنائی دیتی اور سب لوگ زمین پر لیٹ جاتے۔ شاید اسی مشق نے ان کی آنکھوں سے نیند اڑا دی تھی۔

میوزیم کے داخلی راستے پر پاکستان فضائیہ نے ایک ناکارہ طیارہ کھڑا کر رکھا ہے کہا جاتا ہے کہ چند گولیاں اس سے بھی آ کر ٹکرائیں۔

شہر کی مصروف سڑک شاہراہ فیصل ایئرپورٹ اور قومی شاہراہ دونوں کو ملاتی ہے۔ دھماکوں کے بعد سڑک کو ایک طرف سے ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا فیصل ایئر بیس کے قریب سے ریلوے لائن بھی گزرتی ہے جہاں سے ٹرینیں اپنے معمول کے مطابق چلتی رہیں تاہم ان کی بتیاں بند تھیں۔

سعودی عرب کے حکمران شاہ فیصل کے نام سے بنی ہوئی اس شاہراہ نے پچھلے چند سالوں میں کافی مقبولیت حاصل کی ہے۔ بارہ مئی دو ہزار سات کو یہاں ہنگامہ آرائی اور جلوسوں پر حملہ ہوئے۔ اسی شاہراہ پر اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے استقبالیہ قافلے کو کارساز کے مقام پر نشانہ بنایا گیا۔ پچھلے ماہ بحریہ کی بس پر بھی اسی علاقے میں حملہ کیا گیا تھا۔

سورج طلوع ہوچکا ہے، مگر ابھی بھی حقائق پر دھند پڑی ہوئی ہے، سارا ایکشن چار دیواری کے اندر جاری ہے اور باہر صحافی تفصیلات جاننے لے لیے بے تاب ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔