
پشاور میں پولیس افسران کو نشانہ بنانے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بدھ کی صبح ایک خودکش حملے میں پولیس افسر سمیت اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بدھ کو قصہ خوانی بازار کے خان رازق تھانے کے سامنے ہوا۔
حملے کے وقت ایس پی تفتیش ہلال حیدر خان اپنی گاڑی پر دفتر جا رہے تھے کہ پیدل خوکش حملہ آور نے انہیں نشانہ بنایا۔
آئی جی پولیس خیبر پختونخوا کے دفتر سے پولیس اہلکار محمد سلمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں ایس پی کے ڈرائیور الیاس اور ایک محافظ مراد سمیت دو راہ گیر بھی موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ ایک راہ گیر ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
اس حملے میں تئیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے چند کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ زخمی ہونے والوں میں عام شہری اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔
پولیس اہلکار کے مطابق ایس پی ہلال حیدر خان کی رہائش گاہ تھانے کے قریب ہی تھی۔
محمد سلمان نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ خود کش حملہ آور کا سر مل گیا ہے اور اس کی شناخت کی جا رہی ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک نامعلوم مقام سے فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
گذشتہ کچھ دنوں میں پشاور میں ہونے والا یہ تیسرا بڑا حملہ ہے جس میں اعلیٰ پولیس حکام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
چند روز قبل پشاور کے قریب متنی کے علاقے میں ایک چوکی پر حملے میں کے بعد حملہ آور پولیس ایس پی خورشید خان کا سر کاٹ کر ساتھ لے گئے تھے۔
ایس پی خو رشید خان پر حملے سے قبل ان کے پیش رو ایس پی عبدالکلام بھی شدت پسندوں کے اسی نوعیت کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
اس سے پہلے اسی علاقے کے ڈپٹی سپرنڈنٹ رشید خان بھی گاڑی پر بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔






























