
متنی اور بڈھ بیر پر مشتمل اس علاقے میں پولیس پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے پشاور پولیس کے سینیئر افسر خورشید خان کی محکمانہ ترقی، ان کی موت کا سبب بن گئی۔
خورشید خان اس سال اگست میں ڈی ایس پی کے عہدے سے ترقی پا کر پشاور کے دیہی علاقے کے ایس پی مقرر ہوئے تھے۔
متنی اور بڈھ بیر پر مشتمل اس علاقے میں پولیس پر حملے اور خاص طور پر اہم اور سرگرم افسروں کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں گذشتہ کچھ عرصے میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چند ماہ قبل خورشید خان کے پیش رو ایس پی عبدالکلام بھی شدت پسندوں کے اسی نوعیت کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے پہلے اسی علاقے کے ڈپٹی سپرنڈنٹ رشید خان بھی گاڑی پر بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
متنی اور بڈھ بیر کا علاقہ پشاور اور قبائلی علاقوں کے درمیان ’بفر زون‘ سمجھا جاتا ہے جہاں پر پولیس کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ اسی بنا پر شدت پسندوں نے اس علاقے کے سرگرم افسروں کو نشانہ بنا رکھا ہے۔
اسی وجہ سے اس علاقے میں اہم عہدوں پر پولیس افسر تعیناتی سے کتراتے رہے ہیں۔
پولیس ذرائع بتاتے ہیں کہ پشاور کے ڈی ایس پی، خورشید خان نے اس علاقے میں تعیناتی کے لیے خود کو پیش کیا اور پولیس کی اعلیٰ قیادت نے ان کے اس جذبے کے تحت انہیں ایس پی کے عہدے پر ترقی بھی دی۔
خورشید خان کے لیے یہ علاقہ، اور شدت پسندوں کے لیے خورشید خان نئے نہیں تھے۔ سنہ انیس سو چوراسی میں پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے طور پر تعینات ہونے والے یہ پولیس اہلکار گذشتہ چند سال سے اس علاقے میں انسپکٹر اور پھر ڈی ایس پی کے طور پر مختلف اوقات میں فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔
اس دوران شدت پسندوں کے خلاف بہادری کے ساتھ کارروائیاں کرنے پر شدت پسند ان کے جانی دشمن بن گئے تھے۔






























