
سینئر وزیر بشیر بلور کا جلسے میں پہنچنے پر استقبال کیا جا رہا ہے جس میں ہونے والےخود کش حملے میں وہ ہلاک ہوگئے۔
پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے پر ہونے والے خود کش حملے میں سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق خود کش حملہ آور قصہ خوانی کے گنجان آباد علاقے ڈھکی نعلبندی میں جاری عوامی نیشنل پارٹی کے جلسےمیں گلیوں سے ہوتا ہوا پہنچنا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
خود کش حملے میں بشیر بلور کے علاوہ ان کے پرائیوٹ سیکرٹری نور محمد، کابلی تھانہ کے ایس ایچ او ستار خان اور چھ دیگر افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حملے میں بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں لیڈی ریڈنگ ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔
ایس ایس پی پشاور خالد ہمدانی نے ہمارے نمائندے دلاور خان وزیر کو بتایا کہ سینئر وزیر بشیر احمد بلور آپریشن کے دوران ہسپتال میں ہلاک ہوئے۔
بشیر احمد بلور کے بھائی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور بھی اس جلسے میں موجود تھے لیکن وہ محفوظ رہے۔ بشیر احمد بلور پر اس سے پہلے بھی کئے حملے ہو چکے تھے جن میں وہ بچ گئے تھے۔
تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
پشاور کے ایس ایس پی نے بتایا کہ حملہ آور پیدل تھا اور ایک گلی سے ہوتا ہوا جلسہ گاہ تک پہنچا گیا۔
انہوں نے مزید کہ اس دھماکہ میں بیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے بی بی سی کو نامعلوم مقام سے فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مولانا نصیب خان کی ہلاکت کا بدلہ لیا ہے۔ مولانا نصیب خان کچھ عرصہ پہلے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی لاش ملی تھی۔
زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نےخیبر پختونخوا کے حکومت کی دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہونے کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ ’ہم دہشت گردی کے خلاف پر عظم ہیں۔ ہم اپنی قوم اور ملک کو بچائیں گےاور پاکستانی قوم یہ جنگ جیتی گی۔‘
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد نے کہا ہے کہ بشیر احمد بلور کی ہلاکت سے ان کے حوصلے پست نہیں ہونگے۔
خیبر پختونخوا کی حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔






























