
وزارت داخلہ نے پشاور شہر کے مضافات میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کی بنیاد پر تمام سکیورٹی اداروں کو پشاور میں حفاظتی انتظامات بڑھانے کی تجویز دی تھی
پشاور کے ہوائی اڈے پر طالبان کے حملے سے چند روز قبل وزارت داخلہ نے پشاور شہر کے مضافات میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کی بنیاد پر تمام سکیورٹی اداروں کو پشاور میں ہوائی اڈے سمیت تمام اہم تنصیبات کے لیے حفاظتی انتظامات بڑھانے کی تجویز دی تھی۔
وزارت داخلہ نے اس بارے میں چند روز پہلے وزارت دفاع اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کو لکھا تھا کہ پشاور کے جنوب میں واقع مضافاتی علاقے جیسے متنی ، بڈھ بیر اور ایف آر پشاور میں تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال مارچ کے مہینے سے لے کر نومبر تک ان علاقوں میں شدت پسندوں کے پچہتر حملے ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اہم حملوں میں مارچ کے مہینے میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کالام خان کی گاڑی کے قریب خود کش حملے میں ایس پی سمیت چھ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔اس کے علاوہ دیگر واقعات کے ساتھ متنی میں غازی آباد چیک پوسٹ پر حملے کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس میں سپرنٹنڈنٹ پولیس خورشید خان شدت پسندوں کے حملے میں چھ اہلکاروں کے ساتھ ہلاک ہو گئے تھے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشاور میں ہوائی اڈے سمیت تمام سرکاری تنصیبات کے حفاظتی انتظامات میں اضافہ کیا جائِے، لیکن حقیقت میں شہر میں اس طرح کے کوئی اقدامات نظر نہیں آئے تھے۔ پشاور میں ہوائی اڈے کی جانب جانے والے تمام راستوں پر معمول کی سکیورٹی دیکھی گئی اور کوئی بظاہر غیر معمولی اقدامات نہیں کیے گئے۔
چند برس قبل صوبائی دارالحکومت پشاور کے طالبان کے کنٹرول میں جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے وہ خطر تو ٹل گیا لیکن شہر کے قبائلی علاقوں سے جڑے جنوبی مضافات آج بھی شدت پسندوں کے حملوں کی لپیٹ میں ہیں۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق گذشتہ دس ماہ میں دہشت گردی کے پچہتر واقعات پیش آ چکے ہیں۔

اس حملے سے کچھ دن پہلے بھجوائی گئی سرکاری رپورٹ کے مطابق گذشتہ دس ماہ میں دہشت گردی کے پچہتر واقعات پیش آ چکے ہیں
صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اطلاعات آنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے اور جس طرح کے دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں ہم ہر وقت چوکس رہتے ہیں اور ہر روز ہی ایسی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت شدت پسندوں کا مقابلہ کر رہی ہے اور اب اگر کہیں حملہ ہوتا ہے جیسا کہ رات کو ہوا تو دہشت گرد اپنے نشانے تک پہنچ نہیں پاتے۔
کچھ دن قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال دو ہزار نو کے بعد شدت پسندی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس دوران دہشت گردوں کے چار سو پچہتر حملے ایسے تھے جنھیں پسپا کیا گیا ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
بڈھ بیر میں دو روز پہلے ذوالفقار نامی نوجوان سے ملاقات ہوئی جو اپنے بھائی ابرار خان کی قبر کے پاس موجود تھے۔
ذوالفقار کا چھوٹا بھائی ابرار خان دو سال پہلے پولیس میں بھرتی ہوا تھا لیکن بڈھ بیر کے علاقے میں کوئی دو ہفتے پہلے پولیس کی گاڑی پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ ذوالفقار نے بتایا کہ ان کے علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ رہتے ہیں اور ہر وقت خوف رہتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا بھائی شوق سے پولیس میں بھرتی ہوا تھا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ چند برس میں ہی یہ دن انھیں دیکھنا پڑے گا۔
پشاور کے جنوب میں واقع بڑھ بیر، متنی اور ایف آر پشاور کے علاقوں میں شدت پسند آج بھی متحرک ہیں۔ پولیس انسپکٹر نسیم حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسندوں کے لیے اہم راستے تو بند کر دیے گئے ہیں لیکن اب بھی شدت پسند آبی گزرگاہیں یا مقامی زبان میں جنھیں ’خوڑ‘ کہا جاتا ہے استعمال کرتے ہیں اور ان راستوں سے آکر پولیس پر حملے کرتے ہیں۔
بڈھ بیر اور متنی میں اب بھی خوف پایا جاتا ہے اور بعض مقامات پر کیمرے سے ریکارڈنگ کرنا مشکل صورتحال سے دو چار کر سکتا ہے۔

دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں اب بھی طالبان کے مضبوط گڑھ موجود ہیں جہاں سے یہ حملے کیے جاتے ہیں
ان جنوبی علاقوں کو پشاور کی دفاعی حد بھی سمجھا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں امن لشکر قائم کیے گئے تھے جو ماہرین کے مطابق کافی حد تک موثر کام سرانجام دے رہے تھے لیکن حکومت کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے یہ لشکر اب غیر موثر ہو چکے ہیں۔
دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں اب بھی طالبان کے مضبوط گڑھ موجود ہیں جہاں سے یہ حملے کیے جاتے ہیں۔
بریگیڈئیر ریٹائرڈ سعد نے بتایا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت میں دہشت گردوں کو ختم کرنے کا عزم کہیں نظر نہیں آتا کیونکہ اکثر اوقات سینکڑوں شدت پسند شہر میں داخل ہو کر پولیس پر حملے کرتے ہیں اور پھر آسانی سے فرار بھی ہو جاتے ہیں۔ بریگیڈئیر ریٹائرڈ سعد نے بتایا کہ اگر فوج یا فرنٹئیر کور کے اہلکار چوکس ہوں تو یہ شدت پسند آسان نشانہ ہو سکتے ہیں اور اس طریقے سے شدت پسندوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پولیس اور فرنٹیئر کانسٹبلری سمیت تمام ادارے چوکس ہیں اور اب پولیس کو مضبوط ادارہ بنا دیا گیا ہے جسے سیمی فوج کہا جا سکتا ہے، اس لیے اب کسی بھی دہشت گردی کے واقعے سے نمٹنے کے لیے فوج کی ضرورت نہیں رہے گی۔






























