مغوی ایف سی اہل کاروں کی حکومت سے اپیل

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 17:10 GMT 22:10 PST

طالبان کے ہاتھوں اغوا چار ایف سی اہل کاروں نے حکومت سے رہائی کی اپیل کی ہے

تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں اٹھ ماہ سے اغوا فرنٹئیر کور کے چار اہلکاروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ طالبان کے مطالبات کو تسلیم کرکے ان کی رہائی کے لیے عملی اقدمات اٹھائیں۔

خانیوال کے رہائشی عزیز نامی فرنٹئیر کور کے اہلکار نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت طالبان کے قبضے میں کسی نامعلوم مقام پر موجود ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں تین مارچ کو رات تین بجے بلوچستان کے ضلع ژوب کی ایک چیک پوسٹ پستوڑہ سے طالبان نے ایک حملے کے بعداغوا کر لیا تھا۔

عزیز نے بتایا کہ ان کے ساتھ فرنٹئیر کور کے مزید تین اہلکار موجود ہیں جن میں میانوالی کے امیر محمد، ضلع جھنگ کے محمد اصف اور بلوچستان کے علاقے لورلائی سے تعلق رکھنے والے محمد عمر شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ طالبان کس راستے سے انہیں اس مقام پر لائے ہیں۔

عزیز کے مطابق ان کو ایک پہاڑی علاقے میں ایک غار کے اندر رکھا گیا ہے اور ان کی سکیورٹی پر بھی صرف ایک آدمی مامور ہیں۔ وہی سکیورٹی کا آدمی ان کے لئے تیار کھانا لاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس غار میں ان کے آٹھ مہینے پورے ہوگئے ہیں۔ اور اس عرصے میں طالبان نے دو تین دفعہ ان کا رابطہ گھر والوں سے کرایا ہے۔

عزیز کے مطابق ان کو ایک پہاڑی علاقے میں ایک غار کے اندر رکھا گیا ہے اور ان کی سکیورٹی پر بھی صرف ایک آدمی مامور ہیں۔ وہی سکیورٹی کا آدمی ان کے لئے تیار کھانا لاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس غار میں ان کے آٹھ مہینے پورے ہوگئے ہیں۔اور اس عرصے میں طالبان نے دو تین دفعہ ان کا رابطہ گھر والوں سے کرایا ہے

انہوں نے بلوچستان کے گورنر اور وزیراعلی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پر رحم کریں اور طالبان کے مطالبات کو تسلیم کرکے ان کی رہائی کے لیے عملی اقدمات اٹھائیں۔

عزیز نے کہا کہ چاروں اہلکارروں کو ایک غار کے اندر الگ الگ رکھا گیا ہے۔اور ان کو کچھ معلوم نہیں کہ ان کے آس پاس دوسرے مغوی موجود ہیں یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی عمر اڑتیس سال ہے ان کا ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں۔اور وہ ان کے لئے بُہت پریشان ہیں۔

خانیوال میں موجود عزیز کے بھائی بشیر سے رابط کرنے پر انہوں نے بتایا کہ کہ ان کا بھائی طالبان کے قبصے میں ہیں اور تحریک طالبان پاکستان کے جنگجووں نے دو تین دفعہ ان سے رابطہ کیا ہے۔انھوں نے پاکستان کی جیلوں میں ان کے بیس قیدیوں کی رہائی اور دو کروڑ نقد پاکستانی روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تحریک طالبان نے تمام طالبان قیدیوں کے ناموں کا ذکر تو نہیں کیا ہے۔البتہ محمد والد امیر خان جو کوئٹہ کے ایک جیل میں تھا ان کا ذکر کیا کہ وہ طالبان کے ساتھی ہیں۔

بشیر نے مزید بتایا کہ اب ان کو معلوم ہوا ہے کہ محمد ولد امیر خان کو کچھ عرصہ پہلے رہائی مل گئی ہے۔لیکن ان کا بھائی طالبان کے قبضے سے آزاد نہیں ہو سکا۔

عزیز کے بھائی بشیر نے بتایا کہ ایف سی کے کمانڈر کرنل بابر غنی طالبان سے رابطے میں ہیں لیکن ان کے مذاکرات ابھی تک کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچے ۔

بشیر کے مطابق حکومت نے ان کو یقین دلایا ہے کہ وہ تمام ایف سی اہلکاروں کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور وہ جلد رہا ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>