’بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں‘

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارلحکومت پشاور کی اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے مغوی وائس چانسلر اجمل خان کی تیسری ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں انہوں نے حکومت سے گلے شکوے کیے اور کہا کہ طالبان کے مطالبات تسلیم کر کے ان کی بازیابی کے اقدامات کیے جائیں۔
اس ویڈیو میں اجمل خان کو ایک پہاڑی علاقے میں دکھایا گیا ہے جہاں پہاڑوں پر ہلکی برف بھی نظر آ رہی ہے۔ اجمل خان کو ایک لکھا ہوا پیغام پڑھتے دکھایا گیا ہے جس میں انہوں نے حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو اغوا ہوئے اٹھارہ ماہ ہو چکے ہیں لیکن ان کی بازیابی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔
انہوں نے پیغام پڑھتے ہوئے کہا کہ ان کی بازیابی کے بدلے تحریک طالبان نے ان کے چار پاکستانی طالبان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے لیکن حکومت نے ان کی رہائی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت نے انہیں وائس چانسلر کے عہدے پر تعینات کر کے ان کی خدمات کو سراہا لیکن دوسری طرف انہیں اتنا حقیر بنا دیا گیا ہے کہ وہ گزشتہ اٹھارہ ماہ سے طالبان کی قید میں ہیں لیکن انہیں بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔
اجمل خان اور ان کے ڈرائیور کو ستمبر دو ہزار دس میں اس وقت نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنےگھر سے آفس جا رہے تھے۔ ان کے اغوا کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی اور اجمل خان کی دو ویڈیوز بھی جاری کی گئی تھیں۔ اجمل خان نے ان ویڈیو پیغامات میں حکومت سے کہا تھا کہ اغوا کاروں کے مطالبات تسلیم کر کے ان کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
اجمل خان عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کے رشتہ دار ہیں اور وہ پشاور یونیورسٹی میں بھی مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔
اجمل خان کے ایک قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ سرکاری سطح پر انہیں یہ تسلیاں دی جا رہی ہیں کہ اجمل خان اور ان کے ڈرائیور کی بازیابی کے لیے اغوا کاروں سے رابطے کیےگئے ہیں اور جلد ہی انہیں بازیاب کرا لیا جائے گا لیکن اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک انہیں بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔



