وزیر اعظم کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس، 27 اگست کو طلبی

،تصویر کا ذریعہAFP

سپریم کورٹ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او پر عمل درآمد کے مقدمے میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کردیا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو ستائیس اگست کو ذاتی طور پر عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ وزیر اعظم کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس توہین عدالت ایکٹ کے سیکشن سترہ کے تحت جاری کیا گیا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل عرفان قادر سے کہا کہ اگر اس عرصے کے دوران این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے بارے میں کوئی قابل قبول پیش رفت ہوتی ہے تو عدالت اس پر نرم رویہ بھی اختیار کرسکتی ہے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ نئے وزیر اعظم کو پہلے ہی کافی وقت دے چکی ہے لیکن بدقسمتی سے ملک کے ’چیف ایگزیکٹو‘ کی جانب سے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ستائیس جون کو سماعت کے دوران سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے جواب طلب کیا تھا۔

پچیس جولائی کو عدالت نے وزیر اعظم کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق آٹھ آگست تک آخری مہلت دی تھی۔

عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اسی مقدمے میں عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر اُنہیں بطور رکن قومی اسمبلی نااہل قرار دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اُنہیں وزارت عظمی سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔

بدھ کو سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت سے سماعت کو ستمبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ تاہم عدالت نے کہا کہ پہلے ہی دو ہفتے کی مہلت دی جاچکی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جہاں عدالت نے اتنا وقت دیا ہے وہاں تھوڑا اور وقت دے دیا جائے اور اس کی سماعت ستمبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ دونوں اداروں کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

عدالت نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ وزیر اعطم نہ تو عدالتی احکامات پر عملدرآمد کر رہے ہیں اور نہ ہی کوئی جواب داخل کرایا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ نئے توہینِ عدالت کے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت میں مقدمے میں مصروف تھے جس کے باعث وزیر اعظم سے ملاقات نہیں ہو سکی جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ پھر وزیر اعظم کی طرف سے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق جواب ہی سمجھیں۔

بینچ میں موجود جسٹس امیر ہانی مسلم نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملاقات ہو بھی جاتی تو شائد آپ کا بیان اس سے مختلف نہ ہوتا جو آج دے رہے ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وزیر قانون منگل کی شب کو ایک ٹی وی پروگرام میں کہہ رہے تھے کہ حکومت این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف ایک اپیل دائر کرے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں نظر ثانی کی درخواست کا بھی فیصلہ ہوچکا ہے اور اگر ایسا ہوا تو پھر یہ معاملہ طول پکڑ جائے گا۔ آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کہ بینچ این آر او پر عمل درآمد سے متعلق ہے اور عدالت اپنے فیصلے سے ایک اینچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

دوسری جانب حکومت نے توہین عدالت کے نئے قانون کو کالعدم قرار دینے کے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ بنیادی انسانی حقوق کے ذمرے میں نہیں آتا اس لیے عدالت اپنے فیصلے پر نطر ثانی کرے۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے تین آگست کو اپنے فیصلے میں توہین عدالت کے نئے قانون کو کالعدم قرار دیا تھا۔ نظر ثانی کی اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے اس لیے عدالت اس قانون کے خلاف دائر درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے۔