’کمیشن کو کیا بتایا، ہمیں بھی بتاؤ‘

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ نے پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے اسامہ بن لادن کی روپوشی اور ہلاکت کی تحقیقات میں مدد دینے والےگواہوں کو ہراساں کرنے اور ان پر دباؤ ڈالنے کے واقعات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ایبٹ آباد کمیشن کے ذرائع کے مطابق گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے دوران یہ بات کمیشن کے ارکان کے علم میں آئی کہ پاکستان کے انٹیلیجنس ادارے، خاص طور پر انٹر سروسز انٹیلیجنس، کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے گواہوں کو راستے میں روک کر ان سے پوچھ گچھ کرتی ہے۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ان واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن سے منسلک بعض فوجی حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ ان گواہان کے بیان کیےگئے مقامات پر جائے اور معلوم کرے کہ کس ایجنسی کے اہلکار کمیشن کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایبٹ آباد کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال نے اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے کمیشن کے معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے بعض اہم گواہوں نے کمیشن کو بتایا کہ کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے قبل آئی ایس آئی کے اہلکار انہیں طلب کر کے سوالات کرتے اور بعض صورتوں میں جوابات بھی تجویز کرتے رہے۔

ان واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کمیشن سے منسلک بعض فوجی حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

اس کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ ان گواہان کے بیان کیے گئے مقامات پر جائے اور معلوم کرے کہ کس ایجنسی کے اہلکار کمیشن کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ سارا معاملہ اس وقت کھلا جب اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کے قریب رہنے والا ایک عینی شاہد گواہی کے لیے کمیشن کے سامنے مقررہ وقت سے بہت تاخیر سے پہنچا۔

کمیشن کے استفسار پر اس گواہ نے بتایا کہ اسے راستے میں آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے روک کر پوچھ گچھ کی جس کی وجہ سے اسے کمیشن کے سامنے پیش ہونے میں تاخیر ہو گئی۔

ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے دیگر گواہوں سے بھی اس بارے میں دریافت کیا تو یہ بات بھی سامنے آئی کہ آئی ایس آئی کے اہلکار بعض گواہوں کو کمیشن میں پیش ہونے کے بعد بھی طلب کرتے رہے۔

ان میں بعض گواہوں نے کمیشن کو بتایا کہ آئی ایس آئی کے اہلکار ان سے پوچھتے رہے کہ کمیشن نے ان سے کیا پوچھا اور انہوں نے کیا جوابات دیے۔

پچھلے سال دو مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی روپوشی اور ہلاکت کی تحقیقات کے لیے اس کمیشن نے سینکڑوں افراد کے انٹرویوز کیے ہیں جن میں عینی شاہدین کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام بھی شامل ہیں۔

کمیشن کی تحقیقات تقریباً مکمل ہو چکی ہیں اور اب رپورٹ کی تیاری کا کام جاری ہے۔