بلوچستان کانسٹیبلری کی گاڑی پر حملہ، پانچ ہلاک

،تصویر کا ذریعہ
بلوچستان کے علاقے تربت میں حکام کے مطابق بلوچستان کانسٹیبلری کی گاڑی پر ایک بم حملے کے نتیجے میں کم از کم پانچ اہلکار ہلاک اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
تربت کے ڈپٹی کمشنر عبدالفتح بھنگر نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا ہے کہ زخمیوں میں آٹھ کی حالت تشویشناک ہے جنہیں کراچی منتقل کیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے ان اہلکاروں کو تربت میں ذکری فرقے کے سالانہ میلے کے سیکیورٹی انتظامات کے سلسلے میں کوئٹہ سے بلایا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا ’تربت سے تقریباً بیس کلومیٹر دور یہ لوگ کچھ دیر رکے تھے کہ وہاں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بم دھماکہ کیا گیا۔‘
ڈپٹی کمشنر کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام اہلکار مقامی تھے جن کا تعلق تربت اور پنجگور سے تھا۔
’کوئٹہ سے انہیں بھجوایا گیا تھا کہ ڈیوٹی بھی کرلیں گے اور عید بھی کرلیں گے اپنے علاقے میں لیکن یہ افسوسناک واقعہ پیش آگیا۔‘
ڈپٹی کمشنر عبدالفتح بھنگر کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ویسی ہی کارروائی لگتی ہے جو بلوچستان میں اس سے پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور جن کی ذمہ داری کالعدم تنظیمیں قبول کرتی ہیں۔
فوری طور پر واقعے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







