’بلوچوں کے قتل میں سیکیورٹی ادارے ملوث‘

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے مغربی صوبے بلوچستان سے وفاقی کابینہ کے رکن اور حکمران پیپلز پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما میر چنگیز خان جمالی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی چار سال سے جنرل مشرف کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ اس تاثر سے ایک حد تک اتفاق کرتے ہیں کہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے اغوا اور قتل میں سیکورٹی ایجنسیاں ملوث ہیں۔
یہ باتیں انہوں نے بی بی سی اردو سروس کے ساتھ انٹرویو میں کہی ہیں۔ صوبے کے قوم پرست حلقے اور انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں ایک طویل عرصے پاکستانی فوج کے انٹیلیجنس اداروں پر قوم پرست سیاسی کارکنوں کے اغواء اور قتل کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں لیکن یہ پہلی بار ہے کہ برسراقتدار حکومت کے کسی وفاقی وزیر نے کھل کر یہی الزام عائد کیا ہو۔
فوج اور اس کے انٹیلیجنس اور پیرا ملٹری ادارے ان الزامات کو ہمیشہ ہی بے بنیاد قرار دے کر رد کرتے رہے ہیں۔
میر چنگیز خان جمالی نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنا ذہن تبدیل کرنا ہوگا اور اپنے لوگوں کو دشمن بنانے کی پالیسی ختم کرنی ہوگی۔ ان کے مطابق انہیں اب سوچنا ہوگا کیونکہ فوج عوام کے تعاون کے بناء کچھ نہیں کر سکتی ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی کے ذمہ دار حکومت، سیاسی جماعتیں اور افواج پاکستان سب ہیں اور صورتحال بہتر کرنے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بنگلہ دیش جیسے حالات ہیں اور کچھ علاقوں میں قومی ترانہ بجانے اور پرچم لہرانے پر پابندی ہے۔ اب بھی اگر صورتحال کی نزاکت کو نہیں سمجھا گیا اور سیاسی قوتوں کو کام نہیں کرنے دیا گیا تو حالات مزید خراب ہوں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں چنگیز جمالی نے کہا کہ وہ اس تاثر سے اتفاق کرتے ہیں کہ بلوچستان میں وزیراعلیٰ سے زیادہ طاقتور فرنٹیئر کور کے کرنل ہیں۔ اس صورتحال پر افواج پاکستان کو اب سوچنا ہوگا کیونکہ فوج ہو یا عدلیہ وہ بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کرسکتے۔ ان کے بقول بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور پارلیمان ہی اس کو حل کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچوں کے اغواء اور قتل میں جو ادارے بھی ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے کیونکہ کسی کا قتل کرنا قانون اور مذہب میں کسی طور پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے بارے میں کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے کچھ اجلاس کیے ہیں اور فیصلہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے تمام فریقین سے ملے گی اور اپنی سفارشات کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی اور پھر جو بھی فیصلہ ہو اس پر حکومت اور افواج پاکستان کو عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب اسٹیبلشمنٹ کو بھی سدھر جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قومپ رستوں کو انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے تھا اور وہ ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے سنہ دو ہزار آٹھ میں کس کے کہنے پر بائیکاٹ کیا؟۔
‘میں تمام بلوچ بھائیوں سے کہتا ہوں کہ وہ اکٹھے ہوں اور بات چیت سے مسئلے کا حل نکالیں۔ ہم سب کو بلوچستان میں رہنا ہے ہمارے بزرگوں کی قبریں یہاں ہیں ہم کہیں نہیں جائیں گے’۔
انہوں نے کہا کہ وہ بلوچستان کی آزادی مانگنے والے بھائیوں سے پوچھتے ہیں کہ بلوچستان کا کیا ہوگا جب ایران افغانستان اور دیگر پڑوسی ممالک قبول نہیں کرتے تو ایسے میں کیا ہوگا؟۔
انہوں نے بلوچ مزاحمت کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیسرے فریق کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں کیونکہ تیسری قوت کبھی مسئلہ حل نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے بلوچوں سے کہا کہ وہ اسلحہ پھینکیں اور الیکشن لڑیں اور پارلیمان میں پہنچ کر اپنے حقوق کی بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل اور جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے بلوچستان کی بہت اہمیت ہے اور مختلف ممالک اسی وجہ سے وہاں مداخلت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ سمیت جو بھی ممالک بلوچستان میں مداخلت کر رہے ہیں وہ انہیں خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ اگر یہاں دہشت گرد بنیں گے تو ان سے وہ بھی محفوظ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور نیٹو کو افغانستان میں من پسند حکومت کے بجائے عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت قائم کرنی چاہیے۔







