سکیورٹی خدشات: نیٹو سپلائی بدستور بند

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

پاکستان سے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے رسد لے جانے والے کنٹینرز کی سپلائی سیکورٹی خدشات کی بناء پر بدستور بند ہے۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام گزشتہ منگل کو تحصیل جمرود کے علاقے ٹیڈی بازار میں پاک افغان شاہراہ پر شدت پسندوں کی جانب سے نیٹو کنٹینرز پر حملے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی منصوبے کی عدم فراہمی کی وجہ سے نیٹو سپلائی جاری نہیں کی جاسکتی البتہ اس حوالے سے انتظامیہ کی کوششیں جاری ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ چند دن پہلے جمرود کے علاقے تخت بیگ چیک پوسٹ پر نیٹو سپلائی کے تین کنٹینرز کو روک لیا گیا اور بعدازاں انہیں واپس پشاور بھیج دیا گیا۔

نامہ نگار دلاورخان وزیر کے مطابق ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ حکام ان کنٹینروں کی حفاظت کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر رہے ہیں جس کے بعد سپلائی بحال کردی جائے گی تاہم یہ واضح نہ ہوسکا کہ حکام کوصورت حال سے نمنٹنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔

دوسری جانب آئل ٹینکرز کو بھی ابھی تک تیل کی سپلائی جاری رکھنے کی اجازت نہیں ملی۔

آئل ٹینکرز کے ترجمان اسرار شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ماہ قبل انہیں بتایاگیا تھا کہ آئل ٹینکرز مالکان تیل کی سپلائی کے لیے تیار رہیں تاہم ابھی تک انہیں اس کی اجازت نہیں ملی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے دو ہزار ٹینکرز پاکستان میں تیار کھڑے ہیں جبکہ افغانستان سے خالی ٹینکرز بھی واپس پہنچ چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان سے رابط نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایاگیا ہے کہ معاملہ کہاں تک پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ مہمند ایجنسی کے علاقے سلالہ میں ایک چوکی پر نیٹو فورسز کے حملے میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد نیٹو سپلائی معطل کردی گئی تھی اور چار جولائی کونیٹو سپلائی دو بارہ بحال کی گئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے جب سے نیٹو سپلائی بحال کی گئی ہے اب تک ایک محدود تعداد میں کنٹینر افغانستان میں داخل ہوئے ہیں اور ایک بڑی تعداد میں رسد لے جانے والے گاڑیاں تیار کھڑی ہیں۔