’آئی ایس آئی کا سیاسی سیل، نوٹیفکیشن پیش کریں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع کو حکم دیا ہے کہ ملک کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی میں سیاسی سیل کے قیام کے بارے میں اگر کوئی نوٹیفیکشن جاری کیا گیا تھا تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ دستاویزات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی یعنی انٹر سروسز انٹیلیجنس میں سیاسی سیل سنہ اُنیس سو پچھتر میں روایتی ضابطہ کار کے تحت قائم کیا گیا۔
پیر کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی جانب سے نوے کی دہائی میں سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے سے متعلق ائیرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے مقدمے کی سماعت کی۔
عدالت نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی طرف سے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم کرنے والے ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکاروں کے نام سے متعلق ان کی متفرق درخواست انہیں واپس لوٹا دی۔
لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے تین روز پہلے عدالت میں ایک متفرق درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے ان افسران کے نام بھی دیئے تھے جنہوں نے مبینہ طور پر رقوم تقسیم کیں تھیں۔ اسد درانی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ ملڑی انٹیلجنس کے افسران کے نام کو صیغہ راز میں رکھے۔
عدالت نے لیفٹینٹ جنرل اسد درانی کی متفرق درخواست یہ کہہ کر قابل سماعت قرار دینے سے انکار کردیا کہ اس کے ساتھ وضاحتی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔
آئی ایس آئی کے سربراہ کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ اُنہوں نے چودہ کروڑ روپے میں سے سات کروڑ روپے چین آف کمانڈ کے حکم پر فوج کے خفیہ ادارے ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکاروں کی مدد سے نقدی کی صورت میں تقسیم کیے گئے جبکہ باقی ماندہ رقم آئی ایس آئی کے خصوصی سیل میں جمع کروا دی گئی۔
اس جواب میں کے ساتھ ایم ائی کے اُن اہلکاروں کے نام بھی درج تھے جن کے ذریعے سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی گئیں تاہم ان ناموں کو خفیہ رکھنے سے متعلق استدعا کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت نے اسد درانی سے استفسار کیا کہ وہ ان افسران کے نام کیوں خفیہ رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ جن افراد نے رقم وصول کی ہے اُن کو بُلایا گیا تو پھر یہ نام تو سامنے لانے ہوں گے جس پر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح ان افراد کے نام بتا دیے گئے تو لوگوں کا ان اداروں پر اعتبار ختم ہو جائے گا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس جواب کے ساتھ وضاحتی ثبوت نہیں دیے گئے جس کی وجہ سے وہ مقاصد حاصل نہ ہوسکیں گے جو ملک میں شفاف سیاست اور حکمرانی کے لیے کیے جانے چاہیے۔
بری فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ سنہ اُنیس سو ستانونے میں اُس وقت کے سیکرٹر ی دفاع افتخار علی خان نے اُس وقت کے اٹارنی جنرل چوہدری فاروق کو اس سیل سے متعلق جو تفصیلی جواب دیا تھا اُس میں کہیں بھی اس کے نوٹیفکیشن کا ذکر نہیں ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اس سیل سے متعلق ہونے والی تفصیلات کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا۔
اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے دفتر میں آئی ایس آئی کے خفیہ سیل سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس سیل سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن موجود ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزامان صدیقی نے بی بی سی کو دیے گیے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے پر کارروائی تقریبا مکمل کرلی تھی اور اس پر فیصلہ بھی محفوظ کرلیا تھا۔ تاہم بارہ اکتوبر سنہ اُنیس ننانوے کا واقعہ پیش آیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے سے متعلق موجودہ سپریم کورٹ نے جو طریقۂ کار اختیار کر رکھا ہے اُس پر فیصلہ آنا بہت مشکل ہے۔







