تحصیل ہپستالوں میں ماہر ڈاکٹروں کا فقدان

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ گائناکالوجسٹ صوبہ پنجاب، دوسرے نمبر پر خیبر پختون خواہ اور تیسرے نمبر پر صوبہ سندھ جبکہ بلوچستان میں سب سے کم گائناکالوجسٹ تعینات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنرپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ گائناکالوجسٹ صوبہ پنجاب، دوسرے نمبر پر خیبر پختون خواہ اور تیسرے نمبر پر صوبہ سندھ جبکہ بلوچستان میں سب سے کم گائناکالوجسٹ تعینات ہیں۔

پاکستان کے پچہتر تحصیل ہسپتالوں میں گائناکالوجسٹس (ماہر امراض خواتین) کی دو تہائی آسامیاں خالی ہیں۔ ان ہسپتالوں میں ایک سو پانچ آسامیاں ہیں جن میں سے صرف انتالیس پر گائناکالوجسٹ تعینات ہیں۔

اس بات کا انکشاف ایک غیر سرکاری ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک یعنی فیفین نے اپنی ایک جائزہ رپورٹ میں کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ماہ جون میں اکیاسی تحصیل ہسپتالوں کی نگرانی کی گئی جن میں سے اڑتیس پنجاب، چھبیس سندھ، بارہ خیبر پختون خواہ اور پانچ بلوچستان میں تھے۔

فیفن کی طرف سے کئے گئے سروے کے نتائج کے مطابق ان ہسپتالوں میں دیگر ماہر ڈاکٹروں کی بھی اکثریت موجود نہیں ہے۔ ماہر امراض جلد کی اکیانوے فیصد، کان، ناک اور گلے کے ماہرین کی اسی فیصد، فزیشن کی اٹہتر فیصد، ماہر امراض سینہ کی ستر فیصد، اینستھیسٹس کی انہتر فیصد، سرجن کی تریپن فیصد، ماہر امراض چشم کی پچاس فیصد، بچوں کے ڈاکٹروں کی چھیالیس فیصد اور ڈینٹل سرجن کی انتیس فیصد آسامیاں خالی ہیں۔

سروے میں طبی آلات اور مشینری کی عدم موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق تریسٹھ فیصد تحصیل ہسپتالوں میں آنکھوں کے علاج کی سہولت کا وجود ہی نہیں ہے۔ اس طرح باسٹھ فیصد ہسپتالوں میں پیتھالوجی اور چھپن فیصد ہسپتالوں میں ریڈیولوجی کی سہولیات کا فقدان ہے۔

رپورٹ میں نشاندھی کی گئی ہے کہ سترہ فیصد ہسپتالوں میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے، جبکہ گیارہ فیصد ہسپتالوں میں سائے میں بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں ہے، اسی طرح نو فیصد تحصیل ہسپتالوں کے واش رومز میں پانی دستیاب نہیں ۔

ففین کا کہنا ہے کہ اسی فیصد ہسپتالوں کے اندر ڈاکٹروں اور ملازمین کی رہائش موجود ہے جبکہ ننانوے فیصد ہسپتالوں میں مفت دوائی دستیاب ہے۔

اکثر مریضوں نے تصدیق کی کہ ڈاکٹر ہسپتالوں میں موجود ہوتے ہیں، بعض مریضوں نے ڈاکٹر کی جانب سے کم وقت دینے اور بعض نے ڈاکٹروں اور عملے کے رویے کی شکایات بھی کیں۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد محکمہ صحت مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہیں۔ ففین کی اس رپورٹ میں منتخب نمائندوں اور حکام بالا کی ہپستالوں کی نگرانی کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق منتخب نمائندوں اور حکام نے ہسپتالوں کے تریپن دورے کیے ہیں، جن میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بتیس، صوبائی ارکان اسمبلی کے گیارہ اور ارکان قومی اسمبلی کے دو دورے شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے ہر شعبے میں ملینئیم ڈولپمنٹ اہداف مقرر کیے گئے ہیں، اس حوالے سے وزیر اعظم کی معاون شہناز وزیر علی پہلے ہی خدشہ ظاہر کرچکی ہیں کہ پاکستان ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے مقررہ اہداف حاصل نہیں کرسکے گا۔

موجودہ وقت میں ایک لاکھ میں سے دو سو چہتر خواتین دوران زچگی فوت ہوجاتی ہیں، پاکستان نے یہ تعداد کم کرکے دو ہزار پندرہ تک 140 پر لانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق نوزائدہ بچوں اور حاملہ خواتین کی دوران زچگی ہلاکت کی ایک وجہ طبی سہولیات کا فقدان اور لیڈی ڈاکٹروں کی عدم دستیابی بھی ہے۔