سندھ قوم پرستوں کا اتحاد بکھر گیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد سندھ پروگریسیو نیشنلسٹ الائنس نے آئندہ انتخابات میں مشترکہ حصہ لینے کا اعلان کیا تھا مگر سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کے بعد اس اعلان پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔
سندھ میں قوم پرست جماعتوں کے اتحاد کی ایک بڑی تاریخ ہے، جن میں سے کئی پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران ہی بنے ، لیکن یہ اتحاد زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوئے۔
پاکستان کے موجود ڈھانچے میں رہ کر سیاست کرنے والی جماعتوں عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے سندھ پروگریسیو نیشنلسٹ الائنس کے نام سے اتحاد قائم کیا تھا۔ پچھلے دنوں مسلم لیگ ن سے سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے اتحاد کے بعد اس میں دراڑ یں پڑ گئی ہیں۔
سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا ہے کہ ’نواز شریف سے اتحاد جلال محمود شاہ کا انفرادی فیصلہ ہے، اس سے سندھ پروگریسو نیشنلسٹ الائنس یعنی سپنا کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بقوال ان کے اتحاد نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ تینوں جماعتیں الیکشن کمیشن کے پاس اپنی رجسٹریشن کرائیں گی اور ایک دوسرے کے سامنے اپنا امیدوار نہیں لائیں گی۔‘
سپنا کے موجودہ کنوینر ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ باہمی طور پر کوئی چارٹر بنایا جاتا جس کے تحت دیگر جماعتوں سے مزاکرات کیے جاتے۔ موجودہ صورت حال میں اب گیند جلال شا کی کورٹ میں ہے کہ وہ سپنا کے ساتھ الیکشن لڑنا چاہتے ہیں یا کسی اور جماعت کی پیروی کرتے ہیں۔
’ اگر جلال شاہ الگ راستہ اختیار کرتے ہیں تو سیاسی اور اخلاقی طور پر انہیں اس سے آگاہ کرنا چاہیے، لیکن ان کی ذاتی خواہش ہے کہ سپنا میں شامل تینوں جماعتیں مل کر انتخابات میں حصہ لیں۔‘
جے ایم سید کے پوتے جلال شاہ پر مسلم لیگ ن سے اتحاد کرنے کی وجہ سے سپنا کے علاوہ سندھ کے بعض دیگر حلقوں میں بھی تنقید کی جا رہی ہے۔
سندھ میں قوم پرست مالی وسائل اور پانی کی تقسیم کے حوالے سے پنجاب پر تنقید کرتے رہے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس حوالے سے کئی معاہدے نواز شریف کے دور حکومت میں طے پائے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی اور انتخابی اتحاد کیا گیا ہے، ان کے مطابق سپنا میں شامل دیگر جماعتوں کے بھی مسلم لیگ ن سے روابط تھے انہوں نے تجویز دی تھی کہ سپنا کے پلیٹ فارم پر اتحاد کیا جائے مگر انہیں انفرادی طور پر اتحاد کرنے کو کہا گیا۔
سندھ پروگریسیو نیشنلسٹ الائنس کی موجودگی میں عوامی تحریک کی جانب سے کراچی کے علاقے لیاری میں محبت سندھ کے نام سے ریلی نکالی گئی، جس پر فائرنگ میں چودہ کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے، اس ریلی کے بعد سندھ بھر میں عوامی تحریک نے ریلیوں کا انعقاد کیا جس پر اتحاد میں شامل بعض جماعتوں کو اعتراض رہا۔
سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادر مگسی کا کہنا ہے کہ سپنا میں شامل جماعتوں کو سولو فلائیٹ سے گریز کرنا چاہیے، وہ صرف اپنی خود نمائی کے لیے کام نہ کریں کیونکہ کسی بھی اتحاد کے لیے یہ مہلک علامات ہیں۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہجلال شاہ کو شکایت ہے کہ سندھ پروگریسیو نیشنلسٹ الائنس وہ شکل اختیار نہیں کرسکا ہے جسے انتخابی اتحاد کہا جاسکے۔
’ہماری یہ کوشش اور خواہش ہے کہ یہ اتحاد ایک واضح شکل اختیار کرتا اور پاکستان کی کسی دوسری جماعت کے ساتھ اتحاد کرتا۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی ایک جگہ پر کھڑی نہیں رہے گی، ہم جلسے جلوسوں کی حد تک محدود ہونا نہیں چاہتے۔‘
سندھ پروگریسیو نیشنلسٹ الائنس کے کنوینر اور عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی یہ خواہش رہی ہے کہ ترقی پسند قوم پرست مل کر ایک ایسا پلیٹ فارم عوام کو مہیا کریں جو جاگیرداروں، پیروں اور وڈیروں کے سامنے ایک متبادل قوت بن کر آئے۔
’ کچھ دوست شاید جلد بازی میں ہیں اور طویل جدوجہد کی بجائے فوری نتائج کے خواہشمند ہیں تاکہ ایک آدھ حلقہ حاصل کیا جاسکے۔‘
سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ اس سے پہلے ایک بار رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر فائز رہے، یہ میاں نوآز شریف کا دور حکومت تھا۔ موجودہ وقت بھی ان کی سیاست کا محور ان کا انتخابی حلقہ رہا ہے۔







