’وزیر اعظم آئین کے منافی عدالتی احکامات ماننے کے پابند نہیں‘

عدالت نے وفاقی حکومت کے جواب پر دو اعتراضات لگائے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعدالت نے وفاقی حکومت کے جواب پر دو اعتراضات لگائے

وفاقی حکومت نے این آر او فیصلے پر عملدرآمد کے معاملے میں اپنے تحریری جواب میں سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ابھی سوئس حکام کو خط لکھنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

منگل کو اٹارنی جنرل عرفان قادر نے وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جواب داخل کروایا جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان اپنی کابینہ کے فیصلوں پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور انہیں ابھی اس سلسلے میں کوئی مشورہ نہیں دیا گیا ہے۔

بارہ جولائی کو سپریج کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے حکم میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو صدر زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے پچیس جولائی تک سوئس حکام کو خط لکھنے کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ اگر عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو ان کے خلاف مناسب کارروائی ہوگی۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق متفرق درخواست کی صورت میں سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے میں سپریم کورٹ کی طرف سے ستائیس جون اور بارہ جولائی کو جاری کیے گئے احکامات قانون اور ضابطۂ کار کے تحت نہیں آتےاور اس لیے یہ احکامات غیر قانونی ہیں۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ملک کے چیف ایگزیکٹو کو ایسے احکامات دینا آئین کے ارٹیکل دو سو اڑتالیس(ایک) کی خلاف ورزی ہے۔

جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے حلف میں لکھا ہوا ہے کہ وہ آئین کا دفاع کرے گا اور عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے ایسے احکامات جو کہ آئین کے منافی ہوں ، وزیراعظم اُن احکامات کو ماننے کے پابند نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ عدالت وزیر اعظم کو این آر او سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے حکم جاری نہیں کر سکتی۔

اس متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ این آر او سے متعلق سترہ رکنی عدالتی فیصلے کے پیراگراف نمبر 177، 178اور 179 پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا۔ یہ پیراگراف صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق ہیں۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی طرف سے یہ متفرق درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی گئی ہے کہ اس کے ساتھ بارہ جولائی کا عدالتی حکم لف نہیں ہے۔ رجسٹرار آفس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حکومت اس حکم کو چیلینج کرنا چاہتی ہے تو وہ نظرِ ثانی کی درخواست دائر کرے۔

خیال رہے کہ حکومت کہتی رہی ہے کہ ابھی وزارت قانون نے نئے وزیراعظم کو خط لکھنے سے متعلق بریفنگ نہیں دی ہے۔ بدھ کو وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی متوقع ہے جس میں خیال ہے کہ اس موضوع پر بات ہوگی۔

سپریم کورٹ نے سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کو این آر او عملدرآمد کیس میں خط نہ لکھنے پر ہی توہین عدالت کے جرم میں نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد حکومت نے توہینِ عدالت کا نیا قانون متعارف کروایا جسے بھی عدالت میں چیلینج کر دیا گیا ہے۔