غیرمتنازع اور اصولوں کی پاسدار شخصیت

سوچا تھا کہ میں فارن سروس میں جا کر تدریس کا کام کروں گا۔ لیکن حادثاتی طور پر سندھ مسلم کالج میں پڑھانا شروع کردیا‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسوچا تھا کہ میں فارن سروس میں جا کر تدریس کا کام کروں گا۔ لیکن حادثاتی طور پر سندھ مسلم کالج میں پڑھانا شروع کردیا‘
    • مصنف, ارمان صابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے نئے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم ایک غیر متنازع اور اصولوں کی پاسداری کرنے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

فخرالدین جی ابراہیم بارہ فروری سنہ انیس سو اٹھائیس میں غیر منقسم بھارت کی ریاست گجرات کے علاقے کاٹھیاواڑ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے بمبئی میں حاصل کی جہاں وہ سکاؤٹ کے ٹروپ لیڈر تھے۔

فخرالدین جی ابراہیم کہتے ہیں کہ وہ ٹروپ لیڈر فِفٹین بمبئی تھے جو بہت بڑی بات ہوتی تھی۔

انہوں نے بمبئی سے انٹر اور پھر ایل ایل بی کیا اور پھر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن روانہ ہوگئے۔ لندن میں انہوں نے بار ایٹ لاء کیا اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں ڈپلومہ کیا۔

فخرالدین جی ابراہیم کہتے ہیں ’جب میں واپس آیا تو مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کرنے والا ہوں۔ میں نے سوچا کہ میں فارن سروس میں جا کر تدریس کا کام کروں گا لیکن حادثاتی طور پر سندھ مسلم کالج میں پڑھانا شروع کردیا۔‘

ان کے بقول ان کی زندگی میں دو افراد نے ان کی بہت مدد کی، ان میں ایک حسن علی بھائی اور ان کے چھوٹے بھائی طفیل علی، دونوں وکیل تھے۔ طفیل علی اٹارنی جنرل بھی رہ چکے تھے۔

’ایک غلطی کردی یار‘

فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں انہوں نے صوبۂ سندھ کے گورنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

اسی دوران فخرالدین جی ابراہیم نے سنہ انیس سو نواسی میں کراچی میں سٹیزن پولیس لائژان کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد عوام کو ایف آئی آر درج کرانے میں مدد دینا تھا بشرطیکہ پولیس کسی بھی وجہ سے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیری حربے استعمال کرے، اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں متاثرین کی مدد کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اس وقت کے آئی جی سندھ خاور زمان اور ڈی آئی جی کراچی شعیب سڈل نے بہت مدد کی اور وہ سمجھتے ہیں کہ گورنر کی حیثیت سے وہ عرصہ بہت اچھا رہا۔

اس کے بعد جب بینظیر بھٹو کی حکومت کو تحلیل کردیا گیا تو فخرالدین جی ابراہیم نے بھی سندھ کے گورنر کی حیثیت سے استعفٰی دے دیا۔ اس کے بعد وہ وکالت کی پریکٹس کرتے رہے۔

بینظیر بھٹو جب دوسری مرتبہ وزیراعظم بنیں تو فخرالدین جی ابراہیم کو اٹارنی جنرل پاکستان بنایا گیا۔ لیکن اس عہدے پر فائز ہونے کے چند ماہ بعد جب وہ کراچی آئے ہوئے تھے تو ان کے علم میں آیا کہ حکومت نے شریف الدین پیرزادہ کو اِنگیج کرلیا ہے۔

فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ اٹارنی جنرل کے دفتر کی تذلیل تھی کہ اٹارنی جنرل کے علم میں لائے بغیر کسی شخص کو ان ہی کے دفتر میں انگیج کرلیا جائے۔ اس معاملے پر فخرالدین جی ابراہیم نے استعفیٰ دے دیا۔

’بینظیر بھٹو بہت مہربان تھیں اور مجھ سے واضح بات کرتی تھیں اور میں بھی ان سے جو بات کرنا چاہتا تھا کرتا تھا ۔۔۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں، میں رضاکارانہ طور پر چھوڑ کر آگیا ہوں ۔۔۔ تو ان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے ۔۔۔ ہاں زرداری صاحب کے ساتھ میرے کوئی تعلقات نہیں تھے۔‘

فخرالدین جی ابراہیم نے اپنی ایک غلطی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’ایک غلطی کردی یار، ایک غلطی کردی میں نے، فاروق لغاری کی حکومت میں شامل ہوگیا تھا میں وزیرِ قانون کی حیثیت سے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اس کو غلطی کیوں سمجھتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا ’میں اس کو غلطی اس لیے کہتا ہوں کہ وہ 58(2b) کی حکومت تھی۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سنہ انیس سو پچانوے میں فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں ایک انکوائری شروع کی تھی۔ اس کا مقصد اُن الزامات کا جائزہ لینا تھا جو سنہ انیس سو چورانوے میں کھیلے جانے والے کراچی میں پہلے ٹیسٹ میچ میں اور راولپنڈی میں کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ میں آسٹریلوی کھلاڑیوں شین وارن اور مارک وا نے عائد کیے تھے۔

آسٹریلوی کھلاڑیوں نے الزام لگایا تھا کہ سلیم ملک نے ان کو رشوت دینے کی کوشش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔ تاہم آسٹریلوی کھلاڑیوں نے شواہد دینے کے لیے پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا اور انکوائری کمیٹی کو محض سلیم ملک کے بیانات اور پوچھ گچھ پر ہی انحصار کرنا پڑا تھا۔ اکتوبر سنہ انیس سو پچانوے میں میں فخرالدین جی ابراہیم نے اپنی رپورٹ میں سلیم ملک کے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا تھا۔

دسمبر سنہ دو ہزار چھ میں فخرالدین جی ابراہیم نے پی سی بی کمیٹی کے اینٹی ڈوپنگ اپیل کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں جس نے شعیب اختر اور محمد آصف کو بے قصور قرار دیا تھا۔

چکلک سے چک

اپنی زندگی کے چند دلچسپ پہلوؤں سے پردہ اٹھاتے ہوئے فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ سکول کے زمانے میں کتاب میں ایک مضمون تھا جس کا عنوان تھا ’چِکلک‘ اور اُس وقت بہت دبلے پتلے تھے تو سکول میں ان کا نام چکلک پڑ گیا تھا۔ یہ کہہ کر وہ خود ہنسنے لگے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا ’پھر میں جب لندن گیا تو مشیر پیش امام بمبئی کے تھے وہ بھی وہاں آگئے تھے۔ تو میں نے انہیں کہا کہ اب تو میرے نام سے پکارو یار، لیکن وہ چکلک کہتا رہا اور لندن میں مجھے دیگر دوست چِک کہنے لگے اور میرا نام لندن میں چِک پڑ گیا تھا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ میں چھوٹا تھا اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ہوا میں اڑ جاؤں۔‘

وہ ایک بار پھر ہنسنے لگے اور اچانک ان کو ایک اور واقعہ یاد آگیا۔ ’یہاں میں یہ بتادوں کہ ایک بدقسمتی تھی میری، میں نے بار ضرور کیا لیکن ایک بھی لیکچر اٹینڈ نہیں کیا۔ یہ غلطی ضرور کی میں نے حالانکہ ایک سال اور دو مہینے میں کرلیا تھا۔ اصل میں، میں اس وقت انٹرنیشنل ریلیشنز میں ڈپلومہ کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا کیونکہ اس وقت میں نے نہیں سوچا تھا کہ پریکٹس کروں گا یا کیا کروں گا، بس فارن سروس کا خیال تھا۔‘