لاپتہ افراد پر رپورٹ منگل کو پیش کریں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سپریم کورٹ نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو حکم دیاہے کہ خفیہ اداروں سے لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ حاصل کر کے منگل کو عدالت میں پیش کرے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، جسٹس عارف خلیجی اورجسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل بینچ نے سوموار کو کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان بدامنی کیس کی دوبارہ سماعت کی۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سماعت کے آغاز پر عدالت میں لاپتہ افراد کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق بعض لاپتہ افراد بلوچستان اور بلوچستان سے باہر قائم فراری کیمپوں میں ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’یہ فراری کیمپس تو ریاست کو چیلنج کرنے کے مترادف ہیں، ان کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے‘۔
جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل شفیع محمد چانڈیو نے عدالت کو بتایا کہ حکومتی اداروں کو نہ صرف فراری کیمپوں بلکہ ان کے کمانڈروں کا بھی پتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برداشت سے کام لے رہی ہے کیونکہ ساتھ ساتھ سیاسی معاملات بھی چل رہے ہیں تاکہ ان لوگوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکے ۔
انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند فوج اور ایف سی کے لوگوں کو مار رہے ہیں لیکن ان کی کوئی بات نہیں کرتا ہے۔ ان کے مطابق فرنٹیئر کور نے چھبیس ایف آئی آر درج کروائی ہیں ان پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔
عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے کیے گئے اقدامات پر مکمل عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بازیابی اور تفتیش کے حوالے سے پولیس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے ۔
اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان بابر بعقوب فتح محمد نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو سٹریٹجک لیول پر اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے ساتھ اس سلسلے میں ان کے تین اجلاس ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نوشکی سے لاپتہ ایک شخص کے بارے میں چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے بارے میں تو جوڈیشل انکوائری میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ ایف سی کے پاس ہے جس پر فرنٹیئرکور کے وکیل راجہ ارشاد نے کہا کہ فرنٹیئرکور ایک ڈسپلنڈ فورس ہے اس پر بےبنیاد الزام لگایا جا رہا ہے۔
جس پر جسٹس خواجہ نے کہا کہ ’ہم یہ نہیں کہتے کہ فرنٹیئرکور خدانخواستہ ملک دشمن ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ فرنٹیئرکور کی بلوچستان میں پچاس ہزار کی نفری ہے۔ ان میں سے پچاس لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جو شاید غلط کام کر رہے ہیں‘۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’انٹیلی جنس کے لوگ کور میں کام کرتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ ان کے نام ایکسپوز ہوں کیونکہ اس سے مسائل پیدا ہوں گے لیکن جب کسی کے خلاف شواہد آتے ہیں تو پھر ہم کیا کریں ۔ شواہد آنے پر ہم یہی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ لوگ ملوث ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہر تیسرے لاپتہ شخص کے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ اسے ایف سی نے اٹھایا ہے‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ کوئی نتیجہ برآمد ہو، ہمیں کوئی نتیجہ دکھایا جائے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ چار مزید لاپتہ افراد بازیاب ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ناموں کو لاپتہ افراد کی فہرست سے خارج کردیا گیا ۔ بارکھان سے تعلق رکھنے والے تفتیشی افسر نے بتایا کہ انہوں نے گلزار مری سے پوچھا تھاکہ انہیں کس نے اٹھایا لیکن انہوں نے بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بتانے پر خدشہ ہے کہ انہیں پھر سے اٹھایا جائے گا۔
نوشکی سے لاپتہ شخص عبدالمالک کے بارے میں عدالت نے کہا کہ سیشن جج نے یہ آبزرویشن دی ہے کہ ایف سی ان کے لاپتہ ہونے میں ملوث ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک انہیں پیش کیا جائے ورنہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔
عدالت نے بعض دیگر لاپتہ افراد کی درخواستوں کی سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان اور ہوم سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ تمام ایجنسیوں کے علاقائی سربراہان کا اجلاس بلا کر لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنائیں ۔







