سلالہ حملے پر جنرل ایلن کی ’ذاتی معذرت‘

قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے ’مشترکہ کنٹرول‘ پر بھی بات ہوئی

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنقبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے ’مشترکہ کنٹرول‘ پر بھی بات ہوئی
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے سربراہ جنرل جان ایلن نے گزشتہ برس پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر اتحادی افواج کے حملے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ذاتی طور پر معذرت کی ہے۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوجی اور سفارتی روابط کی تفصیلات سے آگاہ ایک اہم فوجی افسر کے مطابق جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس ’نجی‘ معذرت کی حوصلہ افزائی تو کی لیکن اسے ناکافی قرار دیا ہے۔

فوجی افسر کا کہنا تھا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان کے دورے پر آئے امریکی افسر پر واضح کیا کہ ’یہ تنازعہ دو فوجوں کے مابین نہیں بلکہ دو ریاستوں کے درمیان‘ ہے اور اسے ریاستی سطح پر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجی سربراہ کے اصرار پر یہ ملاقات راولپنڈی میں فوجی صدر دفاتر کی بجائے دفترِ خارجہ میں بعض دیگر افسران کی موجودگی میں ہوئی۔

ذرائع کہتے ہیں کہ فوجی سطح پر ہونے والے اس تبادلۂ خیال کے بعد سفارتی سطح پر روابط کیےگئے اور امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستانی وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے ساتھ ٹیلی فون پر بھی بات کی۔

ان رابطوں کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان ڈرون حملوں اور افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے سامان رسد کی ترسیل کے معاملات پر بھی گفتگو کی گئی۔

ان رابطوں کے دوران جو معاملات طے پائے ہیں انہیں کابینہ کی دفاعی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے ’مشترکہ کنٹرول‘ پر بھی بات ہوئی ہے اور ان حملوں کو پاکستانی انٹیلیجنس معلومات کے ساتھ مشروط کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کے لیے پاکستانی انٹیلی جنس کے استعمال سے ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ ’کولیشن سپورٹ فنڈ‘ کی رقم کا ایک حصہ پاکستان کو فوری طور پر دینے پر رضامند ہو گیا ہے البتہ ڈھائی ارب ڈالر کے تمام واجبات باقاعدہ آڈٹ کے بعد ادا کیے جائیں گے۔