بلوچستان: لاپتہ افراد کی تعداد پر تضاد

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تعداد کے بارے میں حکومت اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے اعداد و شمار میں بہت زیادہ تضاد پایا جاتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد صرف چند سو ہے جس پر بلوچ تنظیموں کا کہنا ہے کہ چار سو سے زیادہ لاپتہ افراد کی تو مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر ملک میں لاپتہ افراد سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے گزشتہ دنوں کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ستاون لاپتہ افراد ایسے ہیں جن کے مکمل کوائف موجود ہیں اور ان میں سے پندرہ کمیشن کی کوششوں کے باعث اسی ہفتے منظرعام پرآ گئے جبکہ صرف بیالیس افراد ایسے ہیں جن کو منظرعام پر لانے کے لیے کمیشن سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔

تاہم منظرعام پرآنے والوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ’ بازیاب کرائے جانے والے افراد خوف کی وجہ سے ذرائع ابلاغ کے سامنے بیان دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

دوسری جانب صوبائی حکومت کی جانب سے حال ہی میں کمیشن کو دی جانے والی رپورٹ میں کہا گہا ہے کہ صوبے میں اس وقت لاپتہ افراد کی تعداد نو سو بانوے ہے۔

جس پر کمیشن نے کہا ہے کہ اس فہرست میں ایسے نام بھی شامل ہیں جن کے ساتھ ولدیت تک تحریر نہیں ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہو رہا ہے کہ مذکورہ افراد کب کہاں اور کس وقت سے لاپتہ ہیں۔

کمیشن کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ بہت سے افراد افغانستان اور عرب ممالک جا چکے ہیں لیکن ان کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔حتیٰ کہ کراچی کے علاقے لیاری سے گرفتار ہونے والے تین افراد کو بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

لیکن بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی رپورٹ کے مطابق اس وقت لاپتہ افراد کی تعداد چودہ ہزار سے زیادہ ہے جن میں چودہ سو کے مکمل کوائف ان کے پاس موجود ہیں۔

صوبے میں لاپتہ افراد کا سلسلہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے اقتداد پر قابض ہونے کے بعد اس وقت سے جاری ہےجب صوبے میں بلوچوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز ہوا تھا۔

لاپتہ افراد کی تنظیم نےجوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر تنقید کی اور کہا ہے کہ اب تک چار سو نو لاپتہ افراد کی تو صرف لاشیں مل چکی ہیں۔

ُادھر سپریم کورٹ نےگزشتہ ماہ کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی توایک سو اٹھاون لاپتہ افراد کے لواحقین نے مکمل کوائف عدالت میں جمع کرائے تھے۔

سماعت کے باعث ستائیس افراد منظر عام پر آ گئے تھےجبکہ اب تک سات کی لاشیں مل چکی ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق صوبے سے تقریباً دو سو لاپتہ کے مکمل کوائف موجود ہیں جبکہ دو سو چالیس کی لاشیں مل چکی ہیں۔

اس طرح لاپتہ افراد کی تعداد کے بارے میں حکومت اور مختلف تنظیموں کے درمیان نہ صرف واضع تضاد موجود ہے بلکہ مسخ شدہ لاشیں ملنے کے حوالے سے بھی وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز نے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کیا ہے۔