’بلوچ مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی بات کر رہے ہیں‘

عاصمہ جہانگیر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’چند برسوں میں لوگ زیادہ باشعور ہوگئے ہیں اور خوف کے عالم کے باوجود آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں ہیں جو کہ آمر طاقتوں کو پسند نہیں آتیں‘

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں لوگ اب انتخاب اور مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی بات کر رہے ہیں۔

پاکستان میں حقوقِ انسانی کی علمبردار اور سکیورٹی اداروں کی ناقد کے طور پر پہچانی جانے والے عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی اردو کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں بلوچستان کے مسئلے پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ’بلوچستان میں بہت سارے لوگ بہت انتہا تک پہنچ چکے ہیں اور انہوں واپس لانے میں وقت لگے گا۔‘

<link type="page"><caption> عاصمہ جہانگیر کی بی بی سی کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں گفتگو: سنیے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2012/06/120610_asma_jehangir_a.shtml" platform="highweb"/></link>

انہوں نے کہا کہ’جو لوگ انتہا پسندی کی جانب نہیں گئے ہیں اگر ان کو بھی تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور دیوار سے لگاتے رہیں گے تو ان کو بھی کھو دیں گے۔‘

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ بلوچستان میں دو سال پہلے لوگ الیکشن کی نہیں بلکہ علیحدگی کی بات کر رہے تھے لیکن ان کی حالیہ دورے کے دوران اب محسوس کیا ہے کہ لوگ الیکشن اور مین سٹریم میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’چاہے جس طرح بھی آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے ہیں، اس کی وجہ سے یہ فرق پڑا کہ لوگوں کو اب نظر آیا کہ ان کے صوبے کو بہت زیادہ مالی وسائل ملے ہیں اور ان لوگوں کی نظر میں چاہے صوبائی حکومت نے ان وسائل کو بری طرح استعمال کیا ہے لیکن اگر چیزوں کو اپنے کنٹرول میں لیں تو صوبے کے مستقبل کو بنا سکتے ہیں۔‘

عاصمہ جہانگیر کے مطابق بلوچستان میں حالات کی بہتری کے لیے اٹھارہویں ترمیم کو مضبوط کرنا اور دوسرا ان لوگوں کو مرکزی دھارے میں اور اپنی طرف لانے کی ضرورت ہے جن کو انتہا پسندوں کی جانب سے دھمکی دی جاتی ہے کہ مرکزی دھارے میں نہ جائیں، اس کے علاوہ صوبے شدت پسندی کو ختم کرنا، سب سے بنیادی بات ہے کہ صوبے کے وسائل کے حوالے سے جھگڑے کے بنیادی مسئلے کو ختم کرنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان کو حق ہے کہ وہ خود یہ طے کریں کہ اپنے وسائل کو کہاں اور کس طرح استعمال کرنا ہے اور اس ضمن میں وفاقی حکومت کو ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہیے نہ کہ ان پر مسلط کیا جائے۔‘

گلشن حدید کراچی سے ولی حسین نے عاصمہ جہانگیر سے سوال پوچھا کہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ ایک آزاد خاتون ہیں، آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ ان کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور ان جیسی شخصیت کو راستے سے ہٹانے کے لیے ایسی طاقتوں کو کیا فائدہ ہو گا؟

عاصمہ جہانگیر نے کا کہنا تھا کہ میں اس کو دھمکی نہیں مانتی بلکہ یہ ایک منصوبہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ یہاں کی سول سوسائٹی کو ایک پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ’گزشتہ چند سالوں میں لوگ زیادہ باشعور ہوگئے ہیں اور خوف کے عالم کے باوجود آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں ہیں جو کہ آمر طاقتوں کو پسند نہیں آتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی قیادت میں تنقید کی برداشت نہیں ہے۔ پہلے یہ تھا کہ جیلوں میں لے جایا جاتا تھا مگر اب نیا دور ہے جس میں دھمکیاں ہیں اور لوگوں کی لاشیں ملتی ہیں۔ ہمارے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور بہتر ہونے سے پہلے بدتر ہوتے ہی ہیں۔‘