انتخابی اخراجات کی نگرانی کا حکم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سپریم کورٹ نے انتخابی اخراجات سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ سُناتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کی انتخابی سرگرمیوں اور اُس پر اُٹھنے والے اخراجات کی پر نظر رکھے۔
الیکشن کمیشن کو انتخابی سرگرمیوں اور جلسے جلوسوں کی کڑی نگرانی کرنے کے بارے میں بھی کہا گیا ہے۔
فیصلے میں الیکشن کمیشن کو انتخابی اُمیدوار سے پولنگ کے روز ووٹروں کو پولنگ سٹیشن پر لانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے اخراجات سے متعلق بھی تفصیلات طلب کرنے کو کہا گیا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعہ کے روز ان درخواستوں سے متعلق فیصلہ سُنایا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل سترہ کے تحت ہر شخص کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کا حق ہے اور الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی شخص کو بھی اُس کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ گھر گھر جاکر ووٹروں کے اندارج اور اُن کی تصدیق کے عمل کو یقینی بنائے اور اس ضمن میں فوج اور ایف سی کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔
انتخابی اخراجات سے متعلق درخواستیں ووکرز پارٹی کی طرف سے عابد حسن منٹو اور حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ قاف کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور دیگر افراد کی طرف سے دائر کی گئی تھیں۔
ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انتخابات کے دوران اُٹھنے والے اخراجات سے متعلق قانون موجود ہے لہذا ان قوانین پر عمل درآمد کروایا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیصلے میں سپریم کورٹ نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے کبھی بھی انتخابات میں بدعنوانی کو روکنے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں پولنگ سٹاف میں صوبائی حکومتوں کے اہلکاروں کو تعینات کرنے کی بجائے وفاقی اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔
فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے کہ پولنگ سٹیشنز ووٹروں کے گھروں سے دو کلومیٹر سے زیادہ دوری پر نہ ہوں۔







