کوہستان ویڈیو:’قتل کا فتویٰ نہیں دیا گیا‘

،تصویر کا ذریعہReuters
صوبہ خیبر پختونخواہ کے دور اُفتادہ علاقے کوہستان کے ایک پسماندہ گاوں میں چار لڑکیوں کی ویڈیو اور مبینہ طور پر انہیں قتل کرنے کا واقعہ ایک معمہ بن چکا ہے۔
کمشنر ہزارہ ڈویژن کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے اور اس طرح کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا ہے جبکہ مقامی سطح پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کمشنر ہزارہ ڈویژن خالد خان عمرزئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس علاقے کا دورہ کیا اور ان کی تحقیقات کے مطابق اس طرح کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جس میں سے ایک ویڈیو میں دکھائے جانے والے لڑکے کا بھائی ہے اور اس کے علاوہ اس مولوی کو حراست میں لیا گیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے لڑکیوں کو قتل کرنے کا فتویٰ دیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق کمشنر ہزارہ ڈویژن نے مزید بتایا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مولوی نے اس طرح کا کوئی فتوی نہیں دیا اور اس کے علاوہ ویڈیو جعلی ہے کیونکہ اس میں دو علیحدہ علیحدہ واقعات کو یکجا کر کے دکھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لڑکوں کے رقص کی ریکارڈنگ علیحدہ ہوئی ہے اور لڑکیاں کسی اور شادی میں صرف تالیاں بجا رہی ہیں اور ان دونوں ویڈیوز کو یکجا کر کے ایسا دکھایا گیا ہے جیسے ایک ہی واقعہ ہو۔
کمشنر ہزارہ ڈویژن خالد عمرزئی کے مطابق انہوں نے جو تحقیقات کی ہیں وہ سپریم کورٹ میں پیش کریں گے اور ان کے بقول یہ واقعہ من گھڑت ہے اور اسے جان بوجھ کر اچھالا جا رہا ہے۔
ان دنوں کوہستان کے اس واقعہ کا ذکر ہر جگہ ہو رہا ہے، پارلیمان میں اس بارے میں بحث ہوئی ہے اور سپریم کورٹ نے اس واقعہ کے بارے میں تفصیلات طلب کیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو کوئی ایک ماہ پہلے منظر عام پر آئی ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ اگر یہ واقعہ پیش آیا ہے تو کب پیش آیا ہے۔
بعض کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ان دنوں کا ہے جب خیبر پختونخواہ سمیت ملک کے مختلف مقامات پر شدید سیلاب آئے تھے۔
کوہستان کے مقامی صحافی ملک عبدالحکیم سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی سطح پر ملے جلے رد رمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد لڑکیوں کو قتل کر دیا گیا ہے لیکن بقول عبدالحکیم کے اس واقعے کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں کر رہا۔
انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر اب تک صرف ایک طرف کا موقف ہی سامنے آیا ہے جبکہ لڑکیوں کے خاندان کی طرف سے اب تک کوئی بات سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ کوہستان کے ڈی سی او اور ڈی پی او پیر کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس گاوں پہنچے تھے اور لڑکیوں کے خاندان سے رابطہ کیا تھا لیکن انہیں یہ کہا گیا کہ لڑکیاں زندہ ہیں لیکن مقامی رسم و رواج کے تحت وہ لڑکیوں سے ملاقات نہیں کر سکتے۔
ملک عبدالحکیم نے بتایا کہ لڑکیوں کا قبیلہ ایک جگہ آباد نہیں اور خانہ بدوشوں کی طرح کی زندگی بسر کرتا ہے۔ دو ماہ پہلے تک لڑکیوں کا خاندان یونین کونسل گدار میں آباد تھا لیکن اس کے بعد وہ کسی اور علاقے میں منتقل ہو گئے ہیں۔







