’دو نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے کمیشن بنائیں‘

صدر نے سپیکر کو چودہ رکنی کمیشن کے قیام کے لیے کہا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنصدر نے سپیکر کو چودہ رکنی کمیشن کے قیام کے لیے کہا ہے

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کی سپیکر کو ملک میں دو نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر کام کرنے کے لیے کمیشن بنانے کا ریفرنس بھیج دیا ہے۔

جمعرات کی رات بھیجے جانے والے اس ریفرنس میں سپیکر سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے چھ چھ اور پنجاب اسمبلی کے دو ارکان پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دینے کو کہا گیا ہے۔

ریفرنس کے مطابق یہ کمیشن موجود صوبہ پنجاب میں ’ملتان‘ اور ’بہاولپور‘ کے ناموں سے دو نئے صوبوں کی تشکیل سے جڑے معاملات پر غور کرے گا اور اس مقصد کے لیے آئین میں لائی جانے والی ترامیم پر کام کرے گا۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق یہ کمیشن ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا جس کے بعد دو نئے صوبے بنانے کے لیے آئینی ترامیم کی جائیں گی۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ریفرنس میں قومی اسمبلی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے منظور کی جانے والی قراردادوں کی جانب سپیکر قومی اسمبلی کی توجہ دلوائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی نے مئی کے اوائل میں بہاولپور صوبہ کی بحالی اور جنوبی پنجاب صوبے کی تشکیل کی دو الگ الگ قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی تھیں جن میں وفاق سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ صوبوں کی بحالی و قیام کے لیے فوری اقدامات کریں۔

قراردادوں میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو پانی دیگر وسائل اور جغرافیائی حدود کا تعین کر کے صوبے کی قیام کو عملی جامہ پہنائے۔

اس سے قبل تین مئی کو وفاقی حکومت نےا کثریتی رائے سے جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ بنانے کی قرارداد قومی اسمبلی سے منظور کروائی تھی۔

پاکستان کے وزیراعظم بارہا جنوبی پنجاب کے عوام کی مشکلات کا حل ایک نئے صوبے کو قرار دیتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے کے عوام کی محرومیوں کا حل ایک نئے صوبے کا قیام ہی ہے۔