حقانی گروپ اور مقامی سردار کا تنازع ختم

مقامی لوگوں کے مطابق حقانی گروپ کی نمائندگی گروپ کے جنگی کمانڈر سنگین خان نے کی
،تصویر کا کیپشنمقامی لوگوں کے مطابق حقانی گروپ کی نمائندگی گروپ کے جنگی کمانڈر سنگین خان نے کی

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ اور مقامی قبائلی سردار کریم خان کے درمیان جاری تنازع ایک قبائلی جرگے کے ذریعے ختم ہوگیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی شام کو شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں بازار کے مشرقی حصے میں واقع ایک کُھلے میں میدان میں اتمان زئی وزیر قبائل کے مشران اور علماء پر مُشتمل ایک مُشترکہ جرگے نے مُسلح طالبان سے مُلاقات کی۔

انہوں نے بتایا کہ چیف ملک قادرخان کی سربراہی میں ہونے والے جرگے میں تین سو زیادہ قبائلی مشران اور مقامی علماء اکرم نے شرکت کی۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اتمان زئی وزیر قبائل کا جرگہ کئی قافلوں کی شکل میں 80 گاڑیوں میں تحصیل میرعلی سے میرانشاہ پہنچا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میرانشاہ بازار کے ایک کُھلے میدان میں طالبان شدت پسندوں سے جرگے کی مُلاقات ہوئی جس میں ایک سو سے زیادہ مُسلح جنگجو موجود تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق حقانی گروپ کی نمائندگی گروپ کے جنگی کمانڈر سنگین خان جبکہ حافظ گل بہادر گروپ کی نمائندگی کمانڈر حلیم خان کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق قبائلی جرگے کی کوششوں سے طالبان شدت پسند نے کریم خان کے خلاف عام معافی کا اعلان کیا جس کے بعد سے طالبان شدت پسند کریم خان کے رہائش گاہ پر حملہ نہیں کریں گے اور نہ ہی کریم خان طالبان کے خلاف کوئی اقدام اُٹھائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے میں حافظ گل بہادر گروپ کے کمانڈر حلیم خان نے بُہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

پینتالیس سالہ کمانڈر حلیم خان کا تعلق تحصیل میرعلی کے گاؤں خُوشالی سے ہے اور ان کا قد بُہت چھوٹا ہے اور دارالعلوم حقانیاں اکوڑہ خٹک سے دینی تعلیم حاصل کی ہے اور علاقے میں بہادر کمانڈر کے نام سے مشہور ہیں جبکہ حافظ گل بہادر کے قریبی ساتھی بتائے جاتے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق طالبان شدت پسندوں نے بتایا تھا کہ کریم خان کو اس لیے نشانہ بنایاگیا کہ ان کے خاندان میں بُہت سارے جرائم پیشہ لوگ موجود ہیں اور طالبان علاقے سے جرائم پیشہ لوگوں کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ طالبان اور کریم خان کے درمیان ہونے والے فیصلے پر بُہت خوش ہے لیکن اس واقعہ سے پہلے میرانشاہ میں طالبان شدت پسندوں نے حکیم خان نامی ایک شخص کے خلاف اس بنیاد پر کارروائی کی تھی کہ وہ جرائم پیشہ تھے۔

اس کارروائی کے دوران چار طالبان کے علاوہ حکیم خان گروپ کے انیس ساتھی طالبان کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔

طالبان شدت پسندوں نے دوسرے دن ان کی لاشیں لٹکا دی تھیں اور بعد میں لاشوں کی بے حرمتی کی تھی۔

اب مقامی لوگوں کو خوف ہے کہ اس طرح نہ ہوں کہ وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ طالبان شدت پسند ایک بار پھر کریم خان پر حملہ آور نہ ہو جائیں۔