قبائلی علاقے میں جھڑپیں، چھ ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں اور ایک مقامی قبیلے کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ جھڑپیں عسکریت پسندوں اور میامی کبل خیل قبیلے کے درمیان ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں کے بعد علاقے میں حالات بدستور کشیدہ ہیں جبکہ قبائل کی طرف سے فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو میرعلی سب ڈویژن کے تحصیل شوا میں مقامی طالبان کے سربراہ حافظ گل بہادر کے حامیوں اور میامی کبل خیل قبیلے کے سربراہ ملک کریم خان کے خاندان کے مابین کسی بات پر تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ فریقین نے مورچہ زن ہوکر ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران پاکستانی فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے طالبان کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی جس سے وقتی طور پر دونوں طرف سے فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جمعرات کی شام سے لڑائی کا سلسلہ بند ہے تاہم علاقے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہیں اور فریقین مورچہ زن ہیں۔ ان کے مطابق قبائل کی طرف سے فریقین کے مابین جنگ بندی کےلیے کوششیں بھی جاری ہیں۔

جھڑپوں میں اب تک چھ افراد ہلاک اور دو زخمی ہو چکے ہیں۔ مرنے والے افراد میں دو عسکریت پسند، تین میامی کبل خیل قبیلے کے افراد اور ایک راہگیر شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل میامی کبل خیل قبیلے کے سربراہ ملک کریم خان کے بیٹے کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا تھا جس کا شک عسکریت پسندوں پر کیا جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بعد میں میامی کبل خیل قبیلے نے اس بدلے میں دو عسکریت پسندوں کو یرغمال بنایا اور اس طرح فریقین کے مابین تلخی بڑھتی گئی۔

ان کے مطابق چند دن پہلے ملک کریم خان کا بیٹا ایک حملے میں مارا گیا جبکہ اس دوران دو طالبان جنگجوؤں کو ٹل کے علاقے میں ہلاک کیا گیا۔