’مزید تین زیرِ حراست افراد شدید بیمار‘

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل سے مبینہ طور پر لاپتہ ہوئے افراد میں سے چار کی موت طبعی ہے نہ کہ تشدد کا نتیجہ جبکہ تین مزید حراست میں افراد بیمار ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ دوہزار نو میں راولپنڈی کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالتوں نے مختلف مقدمات میں گرفتار ہونے والےگیارہ افراد کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کر دیا تھا۔ تاہم اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوری بعد ان افراد کو مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار اپنے ساتھ لےگئے تھے۔

ان گیارہ میں سے چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ چار افراد شدید بیمار ہونے کی وجہ سے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور باقی تین افراد پاراچنار میں واقع ایک تفتیشی مرکز میں ہیں جہاں پر اُن سے تفتیش جاری ہے۔

فوج کے اعلیٰ افسران نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے چار افراد سید عبدالصبور، عامر، تحسین اللہ اور ارب خان کی طبعی موت ہوئی تھی اور ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد کا وقتاً فوقتاً علاج پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں کرایا گیا۔ افسران کے بقول ان میں دو افراد کی ہلاکت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی جبکہ ایک کی موت گردے ناکام ہونے سے ہوئی۔

فوج کے افسران نے بتایا کہ گیارہ میں سے سات بچ جانے والے ان افراد میں سے مزید تین افراد کی طبیعت خراب ہے اور ان کا علاج پشاور کے ہسپتال میں جاری ہے۔

فوج کے اعلیٰ افسران نے بی بی سی کو دو حلف نامے بھی دکھائے جس میں ارب خان کے والد اور تحسین اللہ کے ماموں نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا ہے۔

یاد رہے کہ ہلاک ہونے والے عبدالصبور کے وکیل طارق اسد نے سپریم کورٹ میں موقف اختیار کیا ہے کہ عبدالصبور کو تشدد اور بھوکا رکھ کر ہلاک کیا گیا۔

طارق اسد کا یہ بھی موقف ہے کہ ان گیارہ میں سے تین افراد کو گُزشتہ برس تحویل کے دوران قتل کرنے کے بعد اُن کی لاشیں پشاور میں سڑک کے کنارے پھینک دی گئی تھیں۔

فوج کے اعلیٰ افسران نے یہ بھی بتایا کہ ان گیارہ افراد کو کورٹ مارشل کرنے کا ارادہ کیا گیا تھا اور اس بابت سپریم کورٹ نے احکامات بھی دیے تھے۔ لیکن اس کے باوجود کورٹ مارشل اس لیے نہیں ہو سکتا تھا کہ گرفتار افراد اس زمرے میں نہیں آتے تھے۔