نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتا ہوں: گیلانی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں فوجی عدالتوں کے حوالے سے میاں نواز شریف کے بیان پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ جمہوریت میں کہیں بھی فوجی کارروائی کی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ انہیں دکھ ہوا جب کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ کراچی میں فوجی عدالتیں قائم کریں گے اور فوج کو لیکر آئیں گے۔
انہوں نے مزید کہا ’یہ کیسے ہوسکتا ہے، پاکستان میں جمہوریت ہے فوجی آمریت نہیں۔ اس طرح کا بیان دینا کہ ہم کراچی میں فوج کو طلب کریں گے، آپ کے دوہرے معیار نہیں ہونے چاہیں۔ جمہوریت کے اندر کہیں بھی کسی فوجی کارروائی کی گنجائش نہیں ہے ماسوائے جب صوبائی حکومتوں کو مدد کی ضرورت ہو۔‘
وزیراعظم کے مطابق کراچی میں صوبائی حکومت کی مدد کے لیے رینجرز تعینات ہیں اور فوج کو ہمیشہ پس منظر میں رہنا چاہیئے اور ہر وقت اس کو پریکٹس میں نہیں رہنا چاہیئے اور اگر پریکٹس میں رکھا جائے گا تو اتھارٹی (انتظامیہ کا اختیار) ختم ہو جائےگی۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے گزشتہ روز سندھ دیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد کراچی میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام کریں گے۔
نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نے سرائیکی صوبے کے قیام کی مکمل حمایت کی اور کہا کہ عوام کی رائے اور خواہشات کو دبایا نہیں جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ملک کو تہتر کا آئین دیا اور اگر اس وقت ملک قائم ہے تو وہ آئین کی وجہ سے ہے اور اگر آئین نہ ہوتا تو ملک کو متحد رکھنا بہت مشکل تھا۔ انہوں نے آئین کو ملکی سلامتی کا ضامن قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر حقوق نہیں دیے جائیں گے تو پاکستان کمزور ہوگا اور اگر پاکستان میں حقوق دیں جائیں گے تو وہ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انیس سو چالیس کی قرارداد کے مطابق یا چھوٹے صوبوں کی احساسِ محرومی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ماضی میں صوبائی خودمختاری دے دی جاتی یا آمروں کی حکومتیں یہ دے دیتیں تو پاکستان دو لخت نہ ہوتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ اگر وہ یا ایوان میں ان کے ساتھی مل کر سرائیکی صوبے کے قیام کے لیے قرارداد پیش کرتے ہیں تو جو اس کی مخالفت کریں گے ان کو مخالفت کا حق ہے لیکن ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ آپ عوام کی رائے اور خواہشات کو کیسے دبا سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے پہلے چھوٹے صوبوں کی رائے کو دبایا تو مشرقی پاکستان الگ ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر میرے ہوتے ہوئے سرائیکی صوبہ نہیں بن سکتا یا چھوٹے صوبے نہیں بن سکتے تو کب بنیں گے۔
اس سے قبل جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو تو متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان نے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے اپنے ترمیمی بل پر بحث کرنے کے لیے چیئرمین یوسف تالپر سے اجازت مانگی، جو انہوں نے نہیں دی۔
اس موقع پر حکمران اتحاد میں شامل دونوں جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
ایم کیو ایم کے رکنِ قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی نے کہا کہ اس وقت ان کا مطالبہ نئے صوبے بنانے کا نہیں ہے بلکہ اس معاملے پر بحث کرنے کا ہے تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ نئے صوبوں کے معاملے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنماء اور وفاقی وزیر غلام احمد بلور نے کہا کہ ان کے صوبے کی تقسیم کا کسی کو حق نہیں ہے اور ایک صوبائی معاملے کو قومی اسمبلی میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔







