’نظر بندی کی وجہ، سپاہ صحابہ سے تعلق‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سندھ کی حکومت نے مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کا تعلق کالعدم شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ سے ظاہر کرتے ہوئے ان کی نظربندی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
سندھ حکومت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آفاق احمد کی رہائی سے محرم الحرم کے دوران امن و امان میں رخنہ پڑ سکتا ہے۔
صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے آفاق احمد کی نظر بندی کے لیے جاری کیےگئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم حقیقی کے کارکنوں نے ان کی ہدایت پر ’ اللہ اکبر‘ نامی گروپ بحال کر دیا ہے جو کالعدم سپاہ صحابہ اور ایم کیو ایم حقیقی کا اتحاد ہے۔
محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری وسیم احمد کے دستخط سے جاری کیےگئے حکم نامے میں آفاق احمد کو کہا گیا ہے کہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ آپ کی جماعت کے کارکن مذکورہ فرقہ پرست گروہ کے ساتھ مل کر مخالف فرقے اور سیاسی مخالفین سے مسلح تصادم کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس سے کراچی اور صوبے کے دوسرے حصوں میں محرم الحرام کے دورام امن و امان میں خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔
اس تحریری حکم نامے میں نمائش چورنگی کے واقعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد شہر میں کشیدگی کا ماحول موجود ہے اس لیے آپ کے کارکنوں کی سرگرمیاں شہریوں کی جان کے تحفظ کا مسئلہ پیدا کرسکتی ہیں۔
حکم میں کہا گیا ہے:’ امن بحال رکھنے کے لیے آپ کی قید ضروری ہے۔‘
دوسری جانب مہاجر قومی موومنٹ کے وائس چیئرمین شمشاد غوری نے ان الزامات کو حکومت اور اس کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی سازش قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آفاق احمد کے خلاف جو بھی مقدمات دائر تھے وہ شہری حکومت یا پولیس کے ملازمین نے دائر کیے تھے جن کی سیاسی وابستگیاں ہیں۔ ان تمام مقدمات سے بری ہونے کے بعد اب اس قسم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمشاد غوری کا کہنا تھا کہ وہ ایک قومپرست جماعت ہیں، جس میں تمام مسلک کے لوگ شامل ہیں اور ان کی جماعت کبھی مسلک کی بنیاد پر کام نہیں کرتی۔
یاد رہے کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے واٹر بورڈ کے ملازم جمیل بلوچ کے اغوا کے آخری مقدمے میں بھی آفاق احمد کی ضمانت منظور کرلی تھی اور ان کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔ جس کے بعد صوبائی حکومت نے ایم پی او کے تحت آفاق احمد کو تیس روز کے لیے قید کر دیا جس کو ایم کیو ایم حقیقی نے ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔







