مسلسل الزام تراشی اور متاثرہ تعلقات

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناگرچہ افعان حکام نے تو کئی بار یہ الزام لگایا ہے کہ شدت پسند پاکستان سے آرہے ہیں اور پاکستان ان کو رُوکنے میں ناکام رہا ہے لیکن پاکستان نے ان تمام باتوں کی تردید کی ہے۔
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان اور افغانستان گزشتہ چند ماہ سے سرحدی علاقوں میں ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات تو لگا رہے ہیں لیکن نیٹو کے حالیہ حملے کے بعد دونوں مُلکوں کے قریبی تعلقات کو شدید دھچکا لگا ہے۔

چند ماہ قبل افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے الزام لگایا تھا کہ افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستان کی حدود سے داغے گئے پانچ سو کے قریب راکٹ حملوں کے نتیجے میں بارہ بچوں سمیت چھتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صدر حامد کرزئی کے اس بیان کے بعد پاکستانی فوج کے شبعہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل اطہر عباس نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں راکٹ نہیں داغے گئے بلکہ پچھلے ایک ماہ میں افغانستان کی طرف سے پاکستانی علاقوں میں پانچ بڑے حملے کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں ساٹھ سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ اگر ان راکٹ حملوں کی ذمہ دار پاکستان کی سکیورٹی فورسز نہیں ہیں تو پاکستان کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ ان کا ذمہ دار کون ہے؟

انہی دنوں نیٹو حکام کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ مشرقی اور جنوبی افغانستان میں شدت پسندوں کے تین حملوں میں پانچ غیر مُلکی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ شدت پسند کہاں سے آئے لیکن اس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ شدت پسند پاکستان سے ہی آئے تھے۔

تاہم یہ بات تو کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں ہے کہ غیر مُلکی میڈیا اور اکثر مبصرین یہ الزام لگا رہے ہیں کہ پاکستان کے خفیہ ادرارے اور بعض سکیورٹی فورسز کے اہلکار پاکستان سے شدت پسندوں کو افغانستان بھیج رہے ہیں۔ اگرچہ افغان حکام نے تو کئی بار یہ الزام لگایا ہے کہ شدت پسند پاکستان سے آرہے ہیں اور پاکستان ان کو رُوکنے میں ناکام رہا ہے لیکن پاکستان نے ان تمام باتوں کی تردید کی ہے۔

مبصرین کے خیال میں افغان سرحد کو شدت پسندوں کے لیے بند کرنا صرف مُشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے کیونکہ یہ قبائلی، تاریخی، ثقافتی اور نسلی لحاظ سے افغانستان سے جڑے ہوئے ہیں اور ہمیشہ سے افغانستان کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔ تاہم افغانستان میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی آئے تو اسکا قبائلی علاقہ جات پر نہ صرف اثر پڑتا ہے بلکہ ان تبدیلیوں میں قبائل کا ہاتھ بھی شامل ہوتا ہے۔

افغان جہاد کے زمانے میں قبائلی علاقہ افغانستان پر روس کے قبضے کے خلاف استعمال ہوتا رہا ہے اور نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکہ اور اتحادی افواج کی موجودگی کے باعث قبائلی علاقہ جات ایک دفعہ پھر میدانِ جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ پاک افغان سرحد پر قبائل کی آزادانہ نقل وحمل ہے۔

پاک افغان سرحد سے گزرنے والے ایک قبائل اور طالبان میں پہچان کرنا مشکل ہوجاتا ہے جب دونوں ایک نسل، ایک زبان اور ایک لباس پہنے ہوئے ہوتے ہیں ۔ آج بھی قبائل بغیر کسی ویزہ یا سفری دستاویزات کے افغانستان جاتے اور آتے ہیں۔

اسکی مثال جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقہ انگور آڈہ ہے جہاں مارکیٹ، جامع مسجد وغیرہ پاکستانی حدود میں واقع ہے جبکہ احمدزئی قبیلہ سرحد کے پار افغانستان میں آباد ہے۔ یہ قبائل صبح کے وقت پاکستان آتے ہیں اور کام کاج کر کے شام کو واپس افغانستان چلے جاتے ہیں اسی طرح مہمند ایجنسی میں سرحد کے آر پار ایک قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔

پاک افغان سرحد پر ایک دوسرے کے علاقوں میں مارٹر اور توپخانوں کے گرنے کے واقعات آج نہیں بلکہ یہ کافی عرصے سے ہو رہے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں مہمند ایجنسی کا واقعہ بھی اس بات کا نتیجہ ہے کہ پہلے سے جاری مارٹر اور توپخانوں کے واقعات کو معمولی بات سمجہ کر ایک ترید کے بعد رفع کر دیتا تھا۔ اب اگر دونوں مُلکوں نے ماضی کی طرح جھوٹ کا سہارا لیا اورایک دوسرے کےسچ کو تسلیم نہیں کیا تو ممکن ہے کہ دونوں مُلکوں کے تعلقات پر مزید بُرے اثرات مرتب ہونگے۔