’شمالی وزیرستان پر حملے سے پہلے امریکہ دس بار سوچے گا‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ ملکی دفاع بیرونی امداد کا مرہون منت نہیں ہے اور پاکستانی فوج کا انحصار امریکی امداد پر نہیں ہے۔
یہ بات انہوں نے گزشتہ شام بری فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو میں پاکستانی پارلیمان کی ایک کمیٹی کو بریفنگ میں بتائی۔
پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے لیے اس خصوصی بریفنگ کا اہتمام منگل کے روز جی ایچ کیو میں کیا گیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اس بریفنگ میں فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی نے کہا کہ امریکہ کو شمالی وزیرستان پر حملہ کرنے سے پہلے ’دس بار‘ سوچنا ہو گا۔
یہ بریفنگ ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب رواں ہفتے میں امریکی وزیرِ خارجہ افغانستان اور پاکستان کا دورہ کریں گی۔
اس بریفنگ میں موجود بعض ارکان پارلیمان نے بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کو بتایا کہ پاکستانی فوج کے ملٹری آپریشنز کے سربراہ نے ارکان پارلمینٹ کو ملکی دفاع کے بارے میں مفصل بریفنگ دی۔
اس بریفنگ کے بعد سوال جواب کا سیشن ہوا جس میں ارکان پارلیمنٹ کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ امریکی امداد بند ہو جانے سے ملکی دفاع پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
جنرل کیانی نے، بقول بعض ارکان پارلیمنٹ کے، کہا کہ ملکی دفاع کسی بھی بیرونی مالی امداد کا مرہون منت نہیں اور امریکی امداد بند ہونے کی صورت میں بھی ملک ناقابل تسخیر رہے گا۔ جنرل کیانی نے واضح طور پر کہا کہ پاکستانی فوج کا انحصار امریکی امداد پر نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی وزیرستان اور ملک کے بعض دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن کے امریکی مطالبے کے حوالے سے بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستانی فوج کسی بیرونی قوت کی فرمائش پر کارروائی نہیں کرتی اور تمام فوجی کارروائیاں قومی مفاد کے تابع ہوتی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جنرل کیانی نے شرکاء کو بتایا کہ امریکہ کو افغانستان کو مستحکم کرنے پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ پاکستان پر زور دے کہ اہم سرحدی علاقوں پر آپریشن کیا جائے۔
ایجنسی کے مطابق فوج کے سربراہ نے کہا کہ شمالی وزیرستان پر حملے سے پہلے امریکہ کو دس بار سوچنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان یا عراق نہیں ہے۔
ممبر قومی اسمبلی جو اس بریفنگ میں موجود تھے انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ افغانستان میں ہے پاکستان میں نہیں‘۔
جنرل کیانی نے مزید کہا کہ صرف پاکستان اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ کب شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے۔
ایک ممبر قومی اسمبلی نے رائٹرز کو بتایا کہ جنرل کیانی نے کہا کہ ’اگر کوئی مجھے اس بات پر قائل کر لے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے سے سارا مسئلہ حل ہو جائے گا تو میں کل ہی آپریشن کردوں‘۔







