ملک اسحاق کی نظر بندی میں توسیع

ملک اسحاق کو اس سے پہلے گھر پر نظر بند کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنملک اسحاق کو اس سے پہلے گھر پر نظر بند کیا گیا تھا۔

پاکستان میں کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے بانی امیر ملک محمد اسحاق کو ایک ماہ کے لیے جیل میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے انہیں دس روز کے لیے ان کے گھر پر ہی نظر بند کیا گیا تھا۔

جنوبی پنجاب کے علاقے رحیم یار خان کے ضلعی رابطہ آفیسر کی ہدایت پر ان کی نظربندی کے پہلے احکامات کی معیاد مکمل ہونے سے پہلے ہی نظر بندی کے نئے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ملک محمد اسحاق دو ماہ قبل جولائی میں ضمانت منظور ہونے پر چودہ برس کی قید کے بعد رہا ہوئے تھے۔ ان پر سو سے زائد افراد کے قتل کا الزام ہے۔

ڈسٹرکٹ آفیسر کوآرڈینیشن امجد بشیر نے بتایا کہ ملک اسحاق کی نظربندی کے نئےاحکامات کے باعث پہلے سے جاری کردہ احکامات ازخود ہی کالعدم ہوگئے ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے عبادالحق کے مطابق ملک اسحاق کی دس روزہ نظربندی آئندہ ماہ دو اکتوبر کو ختم ہونی تھی لیکن چھبیس ستمبر کو ضلعی پولیس آفیسر کی رپورٹ پر ان کی نظربندی میں ایک ماہ کی توسیع کی گئی ہے جو چھبیس اکتوبر کو ختم ہوگی۔

ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ پہلے نقصِ امن کے قانون کی دفعہ پانچ یعنی فائیو ایم پی او کے تحت ملک اسحاق کی سرگرمیوں کو محدود کرتے ہوئے ان کو ان کے گھر میں نظر بند کیا گیا تھا لیکن نئے احکامات تین ایم پی او کے تحت جاری کیے گئے جس کے تحت ملک اسحاق کو حراست میں لے کر نظربندی کے لیے ڈسٹرکٹ جیل منقتل کردیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ضلعی رابطہ آفیسر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی مشکوک شخص کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے پانچ ایم پی او کے تحت جبکہ تین ایم پی او کے تحت امن وامان کی صورت حال خراب ہونے کے خطرے کے پیش نظر کسی کو جیل میں نظربند کرنے کے احکامات جاری کرسکتے ہیں۔

قانون ماہر رانا اسد اللہ خان کے مطاق تین ایم پی او کے تحت کسی بھی شخص کوچھ ماہ کے لیے نظربند کیا جاسکتا ہے اور نظربندی کے خلاف صوبائی ہوم سیکرٹری کو درخواست دینے کے علاوہ متعلقہ ہائی کورٹ سے بھی کیا جاسکتا ہے۔