چترال اور دیر میں فوج کی تعیناتی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع چترال میں پہلی مرتبہ فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ ضلع دیر آپر اور لوئر دیر کے پاک افغان سرحدی علاقوں میں بھی شدت پسندوں کے حملے روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا جارہا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائر یکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فوج کی تعیناتی کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ پاک افغان سرحد کے کچھ علاقوں میں فوجی دستے تعینات کردیےگئے ہیں تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائي۔
چترال کے ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا ہے کہ پیر سے فوجی اہلکار قافلوں کی شکل میں چترال آرہے ہیں اور اب تک سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان دستوں کو پاک افغان سرحدی علاقے آرندو میں تعینات کیا جارہا ہے تاکہ افغان سرزمین سے شدت پسندوں کے حملوں کو روکا جاسکے۔
چترال کے ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ان کے علاقے میں پہلی مرتبہ باقاعدہ طورپر فوجی دستوں کو تعینات کیا جارہا ہے جس سے لوگوں میں ایک قسم کا خوف و ہراس بھی پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی باشندے یہ خیال کررہے ہیں کہ چترال ایک پرامن ضلع رہا ہے اور ایسا نہ ہو فوج یہاں پر آپریشن کا آغاز کردے جس سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔
ادھر ضلع دیر اپر اور دیر لوئر کے پاک افغان سرحدی علاقوں میں بھی فوجی دستوں کو تعنیات کیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحدی مقامات پر قائم تمام سرکاری سکولوں کو خالی کرا لیا گیا ہے جبکہ اس سلسلے میں مسجدوں سے اعلانات بھی کیےگئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ پچھلے چند ماہ سے دیر اپر، دیرلوئر اور چترال کے اضلاع میں سرحد پار سے شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
تقریبا تین ہفتے قبل چترال کے علاقے آرندو میں افغانستان سے آنے والے سینکڑوں مسلح شدت پسندوں نے چترال سکواٹس اور پولیس کے سات چوکیوں پر شدید حملے کئے تھے جس میں بتیس سے زآئد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
اس سے قبل دیر آپر اور دیر لوئر کے اضلاع میں بھی سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں درجنوں سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً سوات اور مالاکنڈ کے طالبان قبول کرتے رہے ہیں جبکہ چترال حملے کی ذمہ داری سوات طالبان کے ایک اہم کمانڈر سراج الدین نے قبول کرلی تھی۔
پاکستان فوج اور دفتر خارجہ نے ان حملوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا جبکہ ایک دو مرتبہ افغان سفیر کو طلب کرکے ان سے سخت احتجاج بھی کیا گیا تھا۔ پاکستان نے افغانستان میں تعینات ایساف اور افغان نیشنل آرمی کے فورسز سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کو روکنے کےلیے اقدامات کیے جائیں۔







