سوات: سیلاب سے متاثرہ علاقے ایک سال بعد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سوات
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی وادی کالام میں ہوئی تھی جہاں ایک سال گزرنے کے باوجود بھی سڑکیں اور بجلی کا نظام بدستور درہم برہم ہے۔
کالام کے عوام کا کہنا ہے کہ انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ’سیلاب اور حکومت نے انھیں پھتر کے زمانے‘ کی طرف دھکیل دیا ہو۔
بحرین سے وادی کالام تک تیس پینتیس کلومیٹر کی مرکزی شاہراہ گزشتہ سال جولائی میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں بہہ گئی تھی۔ پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے علاقے کے اکثر مقامات پر سڑکوں کا سرے سے نام و نشان تک نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہاں پہلے کبھی سڑکوں کا وجود ہی نہیں تھا۔ تاہم کچھ علاقوں میں سڑک ٹکڑوں کی شکل میں موجود ہے۔
<link type="page"><caption> سوات: تعمیر نو کا کام التواء کا شکار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/07/110714_riffat_diary_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
وادی کے بیشتر مقامات پر سڑکوں کی جگہ پر اب دریائے سوات رواں دواں ہے اور جہاں اب گاڑیوں کے آمد و رفت کے لیے نئے راستوں کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ کئی جگہوں پر پہاڑوں کو کاٹ کر نئی سڑک تعمیر کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس سڑک کو اس لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے کیونکہ سوات میں سیاحوں کی جنت کہلانے والی وادی کالام کے لیے یہ واحد گزر گاہ سمجھی جاتی ہے۔
آج کل اس ناہموار اور پھتریلی سڑک پر صرف فور بائی فور گاڑیوں کے ذریعے سے ہی ٹریفک بحال ہے۔ اس کے علاوہ اس اہم شاہراہ پر اور کوئی گاڑی نہیں جا سکتی۔
کالام کے ایک رہائشی رحمت دین صدیقی کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے مرکزی شاہراہ پر تمام پل پانی میں بہہ گئے تھے لیکن بعد میں کالام کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت ان پلوں کو دوبارہ بحال کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ’سیلاب کے ابتدائی دنوں میں کسی کی کالام کی طرف تو کوئی توجہ ہی نہیں تھی بلکہ یہ تو کالام کے لوگوں کا اپنا جوش و جذبہ تھا کہ انہوں نے حکومت پر انحصار کی بجائے خود اکھٹے ہو کر سڑک پر کام کا آغاز کیا اور بحرین تک اسے فور بائی فورگاڑیوں کے چلنے کے قابل بنا دیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اس اہم سڑک کا کچھ حصہ بھی ابھی تک عام ٹریفک کے لیے بحال نہیں کیا جا سکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کے مطابق آجکل سڑک پر بحالی کا کام تو جاری ہے لیکن سست روی کی وجہ سے اس کے جلد بحال ہونے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ رحمت دین کے مطابق ’اگر کالام کے عوام حکومت کے رحم و کرم پر رہتے تو کب کے مر چکے ہوتے۔‘
وادی کالام اور آس پاس کے پہاڑی علاقوں میں گزشتہ ایک سال سے بجلی کی سپلائی بند ہے جبکہ صحت عامہ کے سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک سال پہلے آنے والے سیلاب میں بجلی کے تمام ٹاور، ٹرانسفارمرز اور بجلی کی ترسیل کے ادارے واپڈا کا دفتر بہہ گیا تھا جس کے بعد سے علاقے میں بجلی کی سپلائی مسلسل منقطع ہے ۔
علاقے میں بنیادی صحت کے مراکز بھی سیلاب کے باعث بری طرح متاثر ہوئے ہیں جس سے مقامی افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
کالام میں ہوٹل ہولیڈین ریزورٹ کے مینیجر آفرین خان کا کہنا ہے کہ ’کالام میں ایک سال سے بنیادی ضروریات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے ہم پھتر کے زمانے میں دھکیل دیے گئے ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جس جگہ ایک سال سے بجلی بند ہو، سڑک کا وجود نہ ہو اور صحت عامہ کے سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہوں وہاں کے لوگ پھتر کے زمانے میں نہیں تو اور کہاں ہونگے۔‘
ان کے بقول ’حکومت کی طرف سے بنیادی سہولیات کی بحالی کے سلسلے میں تاحال کوئی اقدام نہیں کیے گئے اور ایسا لگتا ہے جیسے کالام کے لوگوں کو زبردستی پستی کی طرف دھیلا جا رہا ہو۔‘
سوات میں وادی کالام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اسے سیاحوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔ سوات میں پچھلے تین سالوں سے شدت پسندی اورگزشتہ سال سیلاب میں درجنوں ہوٹلوں کے تباہ ہونے سے ہوٹل مالکان کو کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ سیاحوں کی تعداد میں بھی ہر سال کم ہوتی جا رہی ہے۔
ہوٹل مالکان کے مطابق اس سال علاقے میں امن و امان کی صورتحال کافی حد تک بہتر ہے لیکن سڑکیں خراب ہونے کی وجہ سے علاقے میں سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
کالام ہوٹلنگ ایسوسی ایشن کے ایک رہنما ڈاکٹر عبدالودود نے بتایا کہ سڑکوں کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے کالام کے ہوٹل مالکان کوگزشتہ سال کی طرح رواں سال بھی کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر سڑکوں کی حالت اچھی ہوتی تو اس سال زوال پذیر صنعت کے دوبارہ بحال ہونے کا سلسلہ شروع ہوتا لیکن اب تو لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں اس کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں۔‘
کالام اور اطراف کے مقامات پر سڑکوں پر کام کی رفتار اور دیگر تعمیر نو کا کام دیکھ کر بظاہر ایسا لگا کہ شاید علاقے کی مکمل بحالی میں اب بھی دو تین سال لگ سکتے ہیں۔







