’اپنے وسائل سے دہشتگردی کےخلاف جنگ لڑیں گے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی صدارت میں ہونے والے کور کمانڈروں کے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ اپنے وسائل سے ہی دہشتگردی کے عفریت سے نمٹا جائے گا۔

کور کمانڈروں کے اجلاس میں ملک میں امن عامہ کی مجموعی صورتحال اور کرم ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کا جائزہ لیا گیا۔

<link type="page"><caption> پاکستان کی فوجی امداد معطل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/07/110710_military_aid_a.shtml" platform="highweb"/></link>

فوج کی طرف سے جاری ہونے ایک بیان میں کہا گیا کہ کور کمانڈروں کو ملک میں مجموعی سکیورٹی صورتحال اور کرم ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

چیف آف آرمی سٹاف نے کور کمانڈروں کو بتایا کہ کرم ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کا مقصد علاقے کو دہشتگردی کی کاررائیوں میں ملوث شرپسندعناصر سے پاک کروانا اور ایجنسی کےدوسرے علاقے سے روکے جانے والے راستوں کو کھولنا ہے۔

چیف آف آرمی سٹاف نےمقامی لوگوں کی طرف سے شدت پسندوں کو علاقے سے نکالنے کی کوششوں کی تعریف کی۔

ادھر اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے ‘یو این ایچ سی آر‘ کی ترجمان آریانا رومری کے مطابق کرم ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے تاحال نو ہزار خاندان نقل مکانی کرچکے ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کرم ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ایک خاندان اگر چھ افراد پر بھی مشتمل ہو تو نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ ہے۔

’ہم نے لوئر کرم میں سدہ کے مقام پر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لیے ایک کیمپ قائم کیا ہے جس میں سات سو خاندان رہائش پذیر ہیں اور مزید دو سو خاندان ایک سرکاری سکول میں مقیم ہیں۔‘

یو ایچ سی آر کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کیمپوں میں رہائش پذیر لوگوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر بےگھر ہونے والے لوگ اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں۔

کرم ایجنسی وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کا حصہ ہے اور انیس سو اٹھانوے کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی ساڑھے چار لاکھ کے قریب تھی اور اب خیال ہے کہ وہ بڑھ کر چھ لاکھ قریب پہنچ گئی ہوگی۔

پارہ چنار اور آس پاس کا علاقہ ’اپر کرم ‘ کہلاتا ہے جبکہ مسوزئی اور ارد گرد کا علاقہ ’سینٹرل کرم’ ہے۔ جبکہ سدہ اور اس کے گرد نواح کے علاقے کو لوئر کرم کہا جاتا ہے۔ سینٹرل کرم کی سرحد اورکزئی اور خیبر ایجنسی سے سرحد ملتی ہے۔

کرم ایجنسی کی افغانستان کے صوبوں ننگر ہار، پکتیا اور کھوست سے سرحدیں ملتی ہیں۔

‘یو این ایچ سی آر’ کی ترجمان کے مطابق وہ کیمپوں میں مقیم نو سو کے قریب خاندانوں کو پکا ہوا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ لیکن مقامی صحافیوں کے مطابق حکومت اور عالمی اداروں کے انتظامات ناکافی ہیں۔