’خاتون حملہ آور انتہائی متحرک تھی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
کلاچی تھانے میں مسلح ہو کر دستی بم پھینکنے اور فائرنگ کرنے اور پھر اپنے آپ کو خود کش دھماکے میں اڑا دینے والی خاتون کے بارے میں اب تک کی جو اطلاعات پولیس سے موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق خاتون ایک نوجوان لڑکی تھی۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں حکام کے مطابق <link type="page"><caption> کلاچی تھانے پر حملہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110625_di_attack_update_fz.shtml" platform="highweb"/></link> کرنے والی خاتون برقعہ پہن کر تھانے میں اپنے ساتھی کے ساتھ داخل ہوئی جو دستی بم پھینکنے اور فائرنگ کرنے میں ماہر تھی۔
پولیس کے مطابق یہ نوجوان لڑکی تھی، اس کے لمبے بال تھے اور حملے کے دوران انتہائی متحرک نظر آئی تھی۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلع پولیس افسر محمد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور لڑکی کی عمر اٹھارہ سے بیس سال تک تھی۔ انھوں نے کہا کہ رنگ روپ سے لڑکی وزیرستان یا ازبک قبیلے کے لوگوں سے مشابہت رکھتی تھی۔
انھوں نے کہا کہ بکتر بند گاڑی جب حملہ آوروں سے قبضہ چھڑانے کے لیے تھانے کے گیٹ میں داخل ہوئی تو اس وقت ایک سپاہی نے اس لڑکی کو دیکھا تھا اور اس وقت لڑکی نے اگرچہ برقعہ پہنا ہوا تھا لیکن اس کا چہرہ نظر آرہا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق کوشش کی جا رہی ہے کہ حملہ آوروں کے خاکے جاری کر دیے جائیں۔
دو روز پہلے دو افراد نے ڈیرہ اسماعیل خان سے کوئی پچاس کلومیٹر دور تحصیل کلاچی کے سِٹی تھانے پر فائرنگ اور دستی بموں سے حملہ کیا اور پھر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس میں سات پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔
ضلعی پولیس افسر نے بتایا کہ دو حملہ آوروں نے اپنے آپ کو خود کش حملوں میں اڑا دیا تھا لیکن مرد کی نسبت لڑکی نے پہلے اپنے آپ کو اڑایا اور بعد میں مرد نے بھی اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔
ڈی پی او محمد حسین کے مطابق اب تک جو ابتدائی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اس کے تحت تین افراد تھانے میں ایک یا دو موٹر سائکلوں پر آئے تھے جن میں سے ایک واپس چلا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حملہ آورں کے جسم کے حصے تحقیقات کے لیے متعلقہ حکام کو بھجوا دیے گئے ہیں جس کے بعد معلوم ہو سکے گا کہ حملہ آوروں کا تعلق کس علاقے یا کس قبیلے سے تھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر حملہ آوروں نے کلاچی تھانے کا انتخاب ہی کیوں کیا تو انھوں نے کہا کہ چونکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ناکے اور سخت چیکنگ ہوتی ہے اور دوسری کلاچی کا علاقہ جنوبی وزیرستان کے قریب ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ حملہ آوروں نے اس تھانے کا انتخاب کیا ہو تاہم انھوں نے کہا کہ اس بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ضلعی پولیس افسر کے مطابق پانچ مئی کو دراب روڈ پر پولیس نے بارود سے بھری ایک پِک اپ گاڑی کو اپنے ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا تھا جس میں دو خود کش حملہ آوروں کے علاوہ کوئی شہری یا پولیس کا نقصان نہیں ہوا تھا۔
اس گاڑی میں ایک سو بیس سے ایک سو چالیس کلو گرام تک بارود تھا۔ انھوں نے کہا کہ کلاچی تھانے پر حملے کے تانے بانے پولیس کی اس پانچ مئی کی کارروائی سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔







