’نرخوں میں اضافہ ضروری تھا‘

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ ناگزیر تھا اور اگر حکومت ابھی یہ اضافہ نہیں کرتی تو اس کے ملکی معیشت پر دور رس منفی اثرات ہوتے جن کا خمیازہ بلآخر پاکستانی عوام ہی کو بھگتنا پڑتا۔
پاکستان میں تیل اور گیس کی صنعت کے نگراں ادارے اوگرا کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے ماہرین اس دعوے کو درست تسلیم کرتے ہیں۔
کراچی میں معاشی امور پر تحقیق کرنے والے ادارے فارچون سیکیوریٹیز کے سربراہ محمد سہیل کہتے ہیں کہ پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی منڈی میں ہونے والے اضافے کی شرح سے ابھی بھی کم ہے۔
’میرے خیال میں گزشتہ کچھ عرصے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے اگر اس کے تناسب سے پاکستان میں اضافہ کیا جاتا تو پیٹرول چار سے پانچ روپے مزید مہنگا ہونا چاہئے تھا‘۔ پاکستانی معیشت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے اور حکومت کی آمدن اور خرچ میں فرق، یعنی معاشی خسارہ اپنی ریکارڈ حد کو چھو رہا ہے۔
محمد سہیل کا کہنا ہے کہ معاشی خسارہ اگر اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو اس کا اثر بلاخر عام آدمی پر پڑے گا اور قومی معیشت میں اس خرابی سے عام آدمی کو جتنا نقصان ہو گا وہ اس نقصان سے کہیں کم ہے جو تیل کی قیمتوں سے ہونے والی مہنگائی کے باعث عوام کو درپیش ہو گا۔
’اگر حکومت تیل پر سبسڈی دے گی تو بجٹ خسارہ بڑھے گا۔ بجٹ خسارہ بڑھے گا قومی معیشت ایسی بیماریوں کا شکار ہو گی جن کا علاج جلدی ممکن نہیں ہو گا۔ اس ساری خرابی کا نقصان بلآخر پاکستانی عوام ہی کو بھگتنا پڑے گا جو اس مہنگائی کی نسبت زیادہ سنگین ہو گا جو اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کی صورت میں عام آدمی کو درپیش ہے‘۔
پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حکومت عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ قرضے کی اگلی قسط کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ پاکستان میں آئی ایم ایف کے سابق نمائندے عابد حسن کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں مدد ملے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بجٹ خسارہ کم ہو گا اور بجٹ خسارہ کم ہونے سے آئی ایم ایف خوش ہی ہو گا کیونکہ یہ اس کا پرانا مطالبہ ہے‘۔
یہ بات درست ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مزید مہنگائی کو جنم دے گا۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ دور رس معاشی خرابیوں سے بچنے کے لیے عوام اور حکومت کو یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔







