بسنت پابندی ختم کرنے پر مشاورت

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، اردو ڈاٹ کام
صوبہ پنجاب میں حکمراں جماعت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت اس سال بسنت کا تہوار منانے پر سے پابندی اٹھانے کے حق میں ہے لیکن حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس بارے میں شہر کے عوامی اور ثقافتی حلقوں سے مشاورت کی جا رہی ہے۔
شہر کے با اثر حلقوں میں اس بحث کو شروع کرنے کے لیے مسلم لیگ نواز نے ایک غیر رسمی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جسے بسنت کے تہوار کے حق میں رائے دینے کی صورت میں اسے عملاً ممکن بنانے کے لیے تجاویز پیش کرنے کا کام بھی سونپا گیا ہے۔ اس غیر رسمی کمیٹی کے ایک رکن اور لاھور کی سماجی شخصیت میاں یوسف صلاح الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ میاں نواز اور شہباز شریف نے ان کے ساتھ بسنت کے تہوار کی اجازت دینے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔
یاد رہے کہ بسنت کے موقع پر دھاتی دھاگوں کے استعمال سے بعض ہلاکتوں کے باعث حکومت نے چند برس قبل لاھور میں بسنت کے تہوار اور اس موقع پر پتنگیں اڑانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ پتنگ بازی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل اس تہوار کو موسم بہار کی آمد کے موقع پر منایا جاتا ہے۔
میاں یوسف صلاح الدین نے کہا کہ بسنت جیسے عالمی سطح کے تہوار سے محروم ہونا لاھور کی بدقسمتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی بہت سی تجاویز ہیں جن پر عمل کر کے بسنت محفوظ طریقے سے منائی جا سکتی ہے۔”بسنت کے موقع پر ہلاکتیں موٹر سائیکل اور سائیکل سواروں کے گلوں پر دھاگے یا ڈور لگنے سے ہوتی ہیں۔ اگر ایک دن کے لیے شہر بھر میں سائیکل اور موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کر دی جائے تو ان ہلاکتوں کو روکا جا سکتا ہے۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ سب باتیں اور تجاویز قابل بحث ہیں اور عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہونی چاہیے۔ ادھر حزب اختلاف کی جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم شباب ملی نے بسنت کی اجازت دینے کی حکومت پنجاب کی ان کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس مجوزہ کمیٹی کو تحلیل کیا جائے اور بسنت منانے کے بارے میں ہر قسم کا صلاح و مشورہ بند کیا جائے۔
میاں یوسف صلاح الدین کا البتہ کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں کو پتنگ بازی پر اعتراض نہیں ہے اور انہیں جن باتوں پر اعتراض ہے انہیں روکا جا سکتا ہے۔
لاھور میں پتنگ بازوں کی مرکزی تنظیم نے اس ماہ کی چھبیس اور ستائیس تاریخ کو بسنت منانے کا اعلان کیا ہے اور تنظیم کے مطابق حکومت کے ساتھ اس موقع پر پتنگ بازی کی اجازت کے حصول کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔



