قادری نے پہلے بھی اہم شخصیات کی ڈیوٹی کی تھی

پنجاب پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق ملزم ممتاز قادری گورنر پنجاب سلمان تاثیر کےقتل سے پہلے بھی وزیراعظم اور وزیراعلٰی پنجاب سمیت ملک کی اہم شخصیات کی سیکیورٹی میں بھی شامل رہے ہیں۔
پنجاب پولیس کی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعلٰی سیکریٹریٹ بھجوا دی ہے البتہ تحقیقات جاری ہے اور جلد سفارشات مرتب کرلی جائیں گی۔
پنجاب پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ناصر خان درانی نے بی بی سی کو بتایاکہ اہم شخصیات کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کے رجحانات کی باقاعدہ سکریننگ کی جاتی ہے اور یہ بات ان کی ذاتی سروس فائل میں درج کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلمان تاثیر کےقتل کے ملزم کی سروس فائل کے مطابق سنہ دوہزار چار میں ہی واضح طور پر ان کے مذہبی رجحانات کی نشاندہی کردی گئی تھی لیکن اس کے باوجود ملزم کو درجنوں بار اہم شخصیات کی حفاظت کی ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان شخصیات میں وزیراعظم یوسف رضاگیلانی، وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف اورسابق وزیراعظم نواز شریف سمیت متعدد ملکی وغیر ملکی حکام شامل ہیں البتہ ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ ممتاز قادری کو کبھی صدر مملکت کی حفاظت پر تعینات نہیں کیا گیا تھا۔
ایڈیشنل آئی ناصر خان درانی کی سربراہی میں پنجاب پولیس کی تین رکنی ٹیم اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ قادری کی فائل میں ان کے مذہبی رجحانات کی نشاندہی کے باجود انہیں یہ اہم ڈیوٹیاں کیوں اور کس نے سونپی تھیں؟
راولپنڈی پولیس کے چیف سیکیورٹی آفیسر خالد ستی اور ایلیٹ فورس کے ان دو محرروں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے جو ممتاز قادری کی ڈیوٹیاں لگاتے رہے۔پولیس حکام کاکہنا ہے کہ ان تینوں اہلکاروں کے نام گواہوں کی فہرست میں بھی شامل کردیے گئے ہیں۔
ممتاز قادری نے چار جنوری کو پنجاب کے گورنر سلمان تاثیرکو فائرنگ کر کے قتل کردیاتھا ۔ ملزم نے پولیس کو اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنی جانب سےگورنرکو توہین رسالت کے قانون کے خلاف بات کرنے کی سزا دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان میں فوج اور پولیس دو ایسے ادارے ہیں جو براہ راست مذہبی شدت پسندوں کے خلاف برسرپیکار ہیں لیکن ان اداروں میں ہی شدید مذہبی رجحانات رکھنے والے ملازمین کی موجودگی کے بارے میں سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
متعدد حاضر سروس اہلکاروں کو بھی شدت پسندی میں ملوث ہونے کے الزام میں کورٹ مارشل اور دیگر سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد ایک بار پھر عسکری اداروں میں سخت گیر مذہبی رجحانات رکھنے والے اہلکاروں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔
ایڈیشنل آئی جی ناصر خان درانی کا کہناہے کہ یہ تحقیقات جاری ہیں کہ ممتاز قادری کے علاوہ مزید کتنے ایسے پولیس اہلکار ہیں جو سخت مذہبی رجحانات رکھنے کےباجود وی آئی پی سیکیورٹی پر تعینات رہے ہیں اور اب بھی تعینات ہیں۔
یہ تحقیقات تین روز میں مکمل ہونا تھی لیکن ایڈیشنل آئی جی کاکہنا ہے کہ معاملہ انتہائی اہم اور حساس ہے اس لیے حتمی رپورٹ مرتب کرنے میں ابھی مزید چند دن لگیں گے۔







