لطیف کھوسہ کی تقرری چیلنج

پنجاب کے نامزد گورنر سردار لطیف خان کھوسہ کی تقرری کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
یہ درخواست مقامی وکیل نواز چیمہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ نامزد گورنر آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت گورنر بننے کے اہل نہیں۔
مدعی کا کہنا ہے کہ سردار لطیف خان کھوسہ کو اٹارنی جنرل کے عہدے سے ان کی نااہلی کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا اور جو شخص اٹارنی جنرل کے عہدے کا اہل نہیں اسے کس طرح صوبے کا گورنر بنایا جا سکتا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ گورنر کی تقرری کا نوٹیفیکیشن منسوخ کیا جائے اور انہیں حلف اٹھانے سے روکا جائے۔
نامہ نگار عباد الحق کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد وفاق اور صوبے کے وکلاء اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سے رائے طلب کی ہے کہ یہ درخواست قابلِ سماعت ہے یا نہیں۔
انہوں نے اس درخواست کی سماعت انیس جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
خیال رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے منگل کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سفارش پر سردار لطیف خان کھوسہ کو پنجاب کا نیا گورنر مقرر کیا تھا اور وہ جمعرات کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس اعجاز احمد چودھری گورنر ہاؤس میں ان سے حلف لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لطیف کھوسہ وہ رہنما ہیں جنہیں پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنے دورِ اقتدار میں تیسری مرتبہ کسی عہدے پر فائز کیا ہے۔ وہ اس سے پہلے اٹارنی جنرل پاکستان اور وزیر اعظم کے مشیر کے عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔







